سوال:
میں تقریباً 15 سال سے شادی شدہ ہوں، میرا شوہر منشیات کا عادی ہے اور وہ مختلف مواقع پر وقتاً فوقتاً مجھے طلاق کا لفظ کہتا رہا ہے، ہر بار انہوں نے الفاظ استعمال کیے: “میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں” اور ایک موقع پر یہ بھی کہا: “میں نے تمہیں طلاق دی” پہلی دو مرتبہ خاندان کے شدید دباؤ کی وجہ سے رجوع کر لیا گیا، حالانکہ دل مطمئن نہیں تھا کہ یہ درست ہے، اس آخری مرتبہ میرے شوہر نے اپنے خاندان کے سامنے پانچ مرتبہ مختلف جملوں میں لفظ طلاق استعمال کرتے ہوئے کہا: “میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں” اب ان کے گھر والے ان الفاظ کا انکار کر رہے ہیں، اس واقعے کے بعد میں نے چار حیض (ماہواری کے چکر) مکمل کیے ہیں اور اس دوران کوئی رجوع نہیں ہوا، حال ہی میں اس کی تشخیص شیزوفرینیا (Schizophrenia) کے طور پر ہوئی ہے، اس کے گھر والے مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی ذہنی بیماری کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اوبر (Uber) چلاتا ہے اور اپنے روز مرہ کے تمام معمولات عام طور پر انجام دیتا ہے۔
مزید یہ کہ جن اوقات میں اس نے طلاق کے الفاظ کہے، اس وقت وہ ہوش میں تھا اور نہ تو منشیات کے زیرِ اثر تھا اور نہ ہی کسی ذہنی دورے میں۔براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کتنی طلاق واقع ہو چکی ہیں؟ کیا ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہو چکا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر پہلی دو طلاقوں کی عدت میں رجوع کرنے کے بعد واقعتاً آخری مرتبہ آپ کے شوہر نے ہوش وحواس میں "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں" کے الفاظ کہے ہیں تو ان الفاظ سے تیسری طلاق واقع ہوکر حرمتِ مُغَلّظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 230)
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.
صحیح البخاری: (2014/5، ط: دار ابن کثیر )
عن عائشة: أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول).
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی