resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سابقہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد دوسری جگہ شادی کرنا

(36655-No)

سوال: میری اپنی بیوی کے ساتھ شادی ٢۰١٣ء میں ہوئی تھی، میں نے ان کو حالت حمل میں ایک طلاق دیدی تھی اور وضع حمل سے قبل رجوع کرلیاتھا۔ دوسری بار یہ کہہ کرطلاق دی کہ ایک طلاق او ردیتا ہوں، پھر ہم نے ہفتہ کے بعد رجوع کرلیا۔ پانچ چھ ماہ قبل پھر میں نے کہا کہ تیرے کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے نہ اس لئے تیرے کو طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے رجوع نہیں کیا، اس کی عدت بھی پوری ہوگئی، اب سوال یہ ہے کہ نکاح ختم ہوگیا ہے یا نہیں؟ کیا میں دوسری جگہ شادی کرسکتا ہوں؟ براہ قرآن وسنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوگئی ہے، اور نکاح ختم ہو چکا ہے، نیز مرد کے لیے سابقہ مطلّقہ بیوی کی عدت گزرنے سے پہلے دوسری جگہ شادی کرنا درست ہے، لہذا اگر آپ کسی اور جگہ شادی کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم:(البقرۃ، الآیة: 230)
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡهِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ ؕ وَ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

وقوله تعالىٰ:سورة النساء، الآية:3)
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ

صحيح البخاري:(كتاب الطلاق، رقم الحديث:5261)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ قَالَ : " لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ ".

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce