سوال:
میرے شوہر نے مجھے یکم جنوری2024 کو طلاق دیدی۔ اس نے ایسا کہا کہ میں تم کو طلاق دے رہا ہوں، طلاق طلاق طلاق۔ اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ جب میری عدت پوری ہوجائے گی تو کیا میں دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہوں یا نہیں؟ براہ کرم مجھے قرآن وسنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق آپ کے شوہر نے آپ کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور آپ اپنے شوہر پر حرمت مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہیں، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح، لہٰذا آپ چاہیں تو اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَo
حاشية ابن عابدين: (3/ 409،ط: سعید)
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔
بدائع الصنائع: (3/ 180،ط: دارالکتب العلمیة)
فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی