resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بالغہ لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

(36657-No)

سوال: ایک 27 سالہ عورت اور ایک 28 سالہ مرد کئی برسوں تک ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں رہے، کئی سالوں تک لڑکی کے نکاح کی درخواست کرنے کے بعد ایک کرائے کے فلیٹ میں خفیہ طور پر نکاح کیا گیا، اس نکاح میں ولی کے طور پر دولہے کے چھوٹے بھائی کو مقرر کیا گیا۔ چار گواہ موجود تھے، جو سب کے سب دولہے کی طرف سے تھے۔ مہر 10,000 روپے مقرر کیا گیا جو دولہے نے خود لکھا، ایک قاضی نے اسی فلیٹ میں نکاح پڑھایا، نکاح نامہ ایک عام نوٹ بک سائز رجسٹر میں لکھا گیا جو مقامی دکان سے خریدی گئی تھی اور ایک کاغذ پر دستخط کروائے گئے، لیکن دلہن کو نہ کوئی فوٹو کاپی دی گئی اور نہ ہی کوئی دستاویز فراہم کی گئی۔ دلہن کے خاندان کے کسی فرد کو نہ اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی موجود تھا، نہ ہی ولیمہ ہوا، اور دولہے کے والدین نے بھی اس بات سے انکار کیا کہ انہیں اس نکاح کا علم تھا۔
براہِ کرم واضح فرمائیں کہ آیا یہ نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اگر یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
اور اگر نکاح درست نہ ہو تو کیا عورت کے لیے طلاق لینا ضروری ہوگی یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ لڑکی کو والدین کی اجازت کے بغیر ہرگز کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے، جسے معاشرتی اور اخلاقی طور پر برا سمجھا جاتا ہو، کیونکہ نکاح کا مقصد دو خاندانوں کے درمیان محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا ہے، جبکہ اس طرح کا اقدام باہمی منافرت اور ناچاقیوں کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
تاہم اگر عاقلہ بالغہ لڑکی والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں کفو میں نکاح کرلے تو نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر لڑکا خاندان، نسب، مال اور دین کے اعتبار سے لڑکی کا کفو (برابر) نہ ہو تو نکاح اگرچہ منعقد ہوجائے گا، لیکن لڑکی کے اولیاء کو اس کی اولاد ہونے سے پہلے پہلے عدالت سے رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوگا، اسی وجہ سے اسلام نے خصوصاََ لڑکی کی حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کا اہتمام ولی (والدین ) کے سپرد کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیة: (292/1، ط: دار الفکر)
المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم وهذا إذا كان لها ولي فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah