resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طلاق کے جھوٹے اقرار اور یک طرفہ خلع کا حکم

(36661-No)

سوال: السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته، محترم مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کی خدمت میں اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق ایک نہایت حساس اور پیچیدہ معاملہ شرعی رہنمائی کے لیے پیش کر رہا ہوں، جس میں طلاق، رجوع، خلع اور شرعی حیثیت جیسے اہم امور شامل ہیں۔ براہِ کرم مکمل تفصیل ملاحظہ فرما کر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں واضح اور مدلل رہنمائی فرمائیں۔
میری اور میری بیوی کی شادی باقاعدہ شرعی نکاح کے ساتھ ہوئی، شادی کے بعد باہمی رضامندی سے ہم لڑکی کے والدین کے گھر (سسرال) میں رہائش پذیر رہے، یعنی میری بیوی کبھی میرے ذاتی گھر میں مستقل طور پر نہیں رہی، بلکہ میں خود بھی زیادہ تر سسرال ہی میں مقیم رہا۔ کچھ گھریلو اختلافات کی بنا پر ایک موقع پر مجھ سے غصے کی حالت میں صرف ایک طلاق صادر ہوئی، یہ طلاق میں نے پورے ہوش و حواس میں دی، مگر اس کے بعد مجھے ندامت ہوئی اور میں نے دورانِ عدت رجوع کر لیا۔ رجوع کے بعد ہم میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہتے رہے اور ازدواجی حقوق بھی ادا کرتے رہے، جس پر اس وقت کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔ بعد میں کچھ وقت گزرنے کے بعد ہمارے میاں بیوی کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا جس میں میں نے اپنے کچھ جاننے والوں بذریعہ فون کال یہ کہا گہ ایک طلاق میں نے اس کو پہلے دی ہوئی ہے ،باقی تم جب آؤ گے باقی آج دوں گا لیکن اس دن کوئی طلاق نہیں دی۔
بعد میں میرے بعض جاننے والوں نے بار بار یہ کہنا شروع کیا کہ تم نے دوسری لڑائی میں بھی میں طلاق دی تھی، حالانکہ یہ بات حقیقت کے خلاف تھی۔ میں مسلسل یہی کہتا رہا کہ میں نے صرف پہلے والی لڑائی میں ایک طلاق دی ہے، لیکن اس ایک افراد کی مسلسل ضد، دباؤ اور بار بار کے الزامات کی وجہ سے شدید ذہنی الجھن پیدا ہو گئی، اسی ذہنی دباؤ میں آ کر میں نے اپنے پیر و مرشد کو فون کیا اور غلط فہمی و دباؤ کی حالت میں یہ کہہ دیا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں، حالانکہ یہ بات نہ میرے ارادے کے مطابق تھی، نہ حقیقت میں درست تھی۔ اس کے برعکس میری بیوی بھی حلفاً اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ میں نے صرف ایک ہی طلاق دی تھی، دو طلاقیں ہرگز نہیں دی گئیں۔
اس کے کچھ عرصے بعد میں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب آ گیا، میری غیر موجودگی میں میری بیوی نے میری رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر فسخِ نکاح (خلع) لے لیا۔ میں نے نہ ہی خلع کو قبول کیا اور نہ ہی میں نے کسی مرحلے پر اپنی بیوی کو خلع دینے پر رضامندی ظاہر کی، یہ فیصلہ مکمل طور پر یکطرفہ تھا۔
اب بعد ازاں اللہ کے فضل سے میرے اور میری بیوی کے درمیان صلح ہو چکی ہے، ہم دونوں اپنی سابقہ غلطیوں پر نادم ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ باعزت اور شرعی طریقے سے ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور دوبارہ اکٹھے رہنے پر متفق ہیں، مگر اس پورے معاملے میں شرعی حیثیت ہمارے لیے واضح نہیں ہو پا رہی، جس کی وجہ سے شدید ذہنی اضطراب ہے۔
لہٰذا میں آپ سے درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
1) جب حقیقت میں صرف ایک طلاق دی گئی تھی اور دورانِ عدت رجوع بھی ہو چکا تھا تو نکاح کی شرعی حیثیت کیا بنتی ہے؟
2) پیر و مرشد کو دباؤ میں آ کر دو طلاق کہہ دینے سے جبکہ نیت اور حقیقت میں ایسا نہ ہو، کیا شرعاً دو طلاق واقع ہو جاتی ہیں؟
3) شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی رضامندی اور قبولیت کے بغیر یکطرفہ خلع یا فسخِ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟
4) اگر یکطرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہ ہو تو کیا ہمارا نکاح بدستور قائم ہے؟
5)موجودہ صورتِ حال میں کیا ہمارے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہے یا ہم بغیر نئے نکاح کے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟
6) اگر احتیاطاً نکاحِ ثانی کا مشورہ ہو تو اس کی شرائط کیا ہوں گی؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح، دوٹوک اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں، تاکہ ہم شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کو درست طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔جزاکم اللہ خیراً
ہم میاں بیوی دونوں حلف دیتے ہیں کہ اس بیان میں کوئی بات نہیں چھوپائی گئی یہ بیان بالکل درست ہے ہم دنیا اور آخرت میں اس کے ذمہ دار ہیں۔

جواب: سوال میں چار امور کی وضاحت مطلوب ہے، جو درج ذیل ہے:
1: پہلی طلاق کے بعد چونکہ عدّت کے دوران آپ نے رجوع کرلیا تھا، اس لیے شرعاً نکاح باقی رہا اور رجوع معتبر ہوگیا، اس کے بعد آپ کو مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا۔
2: دوسری بار اگر آپ نے اپنے پیر و مرشد یا کسی اور کے سامنے جھوٹا اقرار کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسری طلاق نہیں دی تھی، اور آپ کی اہلیہ بھی اس حقیقت سے واقف ہیں تو طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے دیانتاً دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اگر یہ معاملہ عدالت میں جائے تو قاضی ظاہری اقرار کو مدّ نظر رکھتے ہوئے طلاق واقع ہونے کا فیصلہ صادر کرے گا۔
3: طلاق کا اختیار شریعت مطہّرہ نے مرد کو دیا ہے، جبکہ خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، لہذا یک طرفہ خلع کا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں اور آپ کی اہلیہ بدستور آپ کے نکاح میں ہیں۔
4: نیز اگر آپ احتیاطاً تجدید نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں زوجین ایجاب و قبول کرلیں تو اس سے تجدید نکاح ہو جائے گا، احتیاطاً تجدید نکاح کی صورت میں نیا مہر مقرر کرنا لازم نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار:(باب الرجعة،3/ 397،ط: دار الفكر)
(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.

رد المحتار:(3/236،ط: دار الفكر)
ولو أقر ‌بالطلاق ‌كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة

وفيه أيضاً:(365/5،ط:دار الفکر)
إذا قال رجل:قلت لزوجتي:أنت طالق بذالك الإخبار كاذبا ،فإن المفتي يفتيه بعدم الوقوع،و القاضي يحكم عليه بالوقوع.

وفيه أيضاً:(238/3،ط:دار الفکر)
(ﻗﻮﻟﻪ ﺃﻭ ﻫﺎﺯﻻ) ﺃﻱ ﻓﻴﻘﻊ ﻗﻀﺎء ﻭﺩﻳﺎﻧﺔ ﻛﻤﺎ ﻳﺬﻛﺮﻩ اﻟﺸﺎﺭﺡ، ﻭﺑﻪ ﺻﺮﺡ ﻓﻲ اﻟﺨﻼﺻﺔ ﻣﻌﻠﻼ ﺑﺄﻧﻪ ﻣﻜﺎﺑﺮ ﺑﺎﻟﻠﻔﻆ ﻓﻴﺴﺘﺤﻖ اﻟﺘﻐﻠﻴﻆ، ﻭﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺰاﺯﻳﺔ. ﻭﺃﻣﺎ ﻣﺎ ﻓﻲ ﺇﻛﺮاﻩ اﻟﺨﺎﻧﻴﺔ: ﻟﻮ ﺃﻛﺮﻩ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ ﻳﻘﺮ ﺑﺎﻟﻄﻼﻕ ﻓﺄﻗﺮ ﻻ ﻳﻘﻊ، ﻛﻤﺎ ﻟﻮ ﺃﻗﺮ ﺑﺎﻟﻄﻼﻕ ﻫﺎﺯﻻ ﺃﻭ ﻛﺎﺫﺑﺎ ﻓﻘﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ، ﻭﺇﻥ ﻣﺮاﺩﻩ ﻟﻌﺪﻡ اﻟﻮﻗﻮﻉ ﻓﻲ اﻟﻤﺸﺒﻪ ﺑﻪ ﻋﺪﻣﻪ ﺩﻳﺎﻧﺔ، ﺛﻢ ﻧﻘﻞ ﻋﻦ اﻟﺒﺰاﺯﻳﺔ ﻭاﻟﻘﻨﻴﺔ ﻟﻮ ﺃﺭاﺩ ﺑﻪ اﻟﺨﺒﺮ ﻋﻦ اﻟﻤﺎﺿﻲ ﻛﺬﺑﺎ ﻻ ﻳﻘﻊ ﺩﻳﺎﻧﺔ، ﻭﺇﻥ ﺃﺷﻬﺪ ﻗﺒﻞ ﺫﻟﻚ ﻻ ﻳﻘﻊ ﻗﻀﺎء ﺃﻳﻀﺎ.

وفيه أيضاً:(باب الخلع،440/3،ط:دار الفکر)
فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.

وفيه أيضاً:(42/1،ط: دار الفكر)
والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرةً أو مرتين؛ إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير.

وفيه أيضاً:(113/3،ط: دار الفكر)
[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحاً بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطاً اه أي لو جدده لأجل الاحتياط لاتلزمه الزيادة بلا نزاع، كما في البزازية.

بدائع الصنائع:(145/3:دار الكتب العلمية)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

فتاویٰ عثمانیہ:(کتاب الطلاق،56/6،ط: العصر اکیڈمی)

فتاویٰ قاسمیہ:(230/14،ط: رشیدیہ)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce