سوال:
السلام علیکم، محترم! اگر کوئی شخص یوں کہہ دے کہ آج کے بعد میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ پھر اگر وہ شخص وہ کام کر لے، یعنی اپنی بات پر قائم نہ رہ سکے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلّق کر دینے سے شرعاً طلاق معلّق ہو جاتی ہے، اس کے بعد شرط پائی جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں شوہر نے جس کام کے کرنے پر یہ الفاظ "آج کے بعد میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق ہو جائے" بولے ہیں، اس کام کرنے پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (کتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، 1/ 420، ط: دار الفکر)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی