سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته، مفتی صاحب! میں نے اپنی بیٹی کا نام زہرہ بتول پسند رکھا ہے، یہ نام رکھنا کیسا ہے؟ اور اگر کوئی اور اسلامی نام ہو جس کے معنی اللّٰہ پاک کے حکموں کی تابعداری کرنے کے مترادف ہو تو وہ بتا دیجیے۔ بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرا
جواب: "زَهْرَاء" کا معنی ہے: حسین عورت، اور "بَتُول" کا معنی ہے: زاہدہ عورت یعنی دنیاوی خواہشات سے منہ پھیر کر اللہ کی طرف راغب عورت، یہ دونوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے القابات ہیں، جنہیں بطور نام استعمال کرنا درست ہے۔
اس کے علاوہ ذیل میں چند ایسے اسلامی نام ذکر کیے جاتے ہیں جن میں اطاعت و فرمانبرداری کا معنی موجود ہے:
تابعہ (فرمان بردار)، خاشعہ (عاجزی کرنے والی)، ذاکرہ (ذکر کرنے والی)، رَضِیّہ ( فرمان بردار)، زاہدہ (عبادت گزار)، زَکِیّہ (نیک عورت)، صالحہ (نیک عورت)، عابدہ (عبادت گزار عورت)، عارفہ (اللہ کو پہچاننے والی عورت)، ذُنَابَۃ (تابعدار) وغیرہ، ان میں سے کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الإصابة في تمييز الصحابة: (262/8، ط: دار الكتب العلمية )
فاطمة الزهراء:بنت إمام المتقين رسول الله: محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم، الهاشمية، صلى الله على أبيها وآله وسلم ورضي عنها.كانت تكنى أم أبيها، بكسر الموحدة بعدها تحتانية ساكنة. ونقل ابن فتحون عن بعضهم بسكون الموحدة بعدها نون، وهو تصحيف، وتلقب الزهراء.
معجم متن اللغة: (69/3، ط: دار مكتبة الحياة)
الزهراء: المرأة المشرقة الوجه (ز): البيضاء: المستنيرة المشربة بحمرة.
مجمع بحار الأنوار: (137/1، ط: مطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية)
وامرأة "بتول" أي منقطعة عن الرجال لا شهوة لها فيهم، وسميت مريم وفاطمة بها لانقطاعهما عن نساء زمانهما فضلا ودينا، أو عن الدنيا إلى الله.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی