سوال:
میرے شوہر نے میرے تین بھائیوں، میری ماں اور میری بہن کے سامنے مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے، اس پر میں نے بار بار قسم کھا کر کہا کہ میں نے یہ گناہ نہیں کیا۔ میں نے یہ بھی کہا کہ اگر میرا یہ گناہ ثابت ہو جائے تو جو بھی اس گناہ کی سزا ہے وہ مجھے دے دی جائے، اس کے بعد میرے شوہر گھر چلے گئے۔ اگلے روز میرے بھائی نے جا کر ان سے کہا کہ اس بہتان کی سزا قذف ہے، لیکن اس پر میرے شوہر اس بہتان پر ڈٹے رہے اور دلیل کے طور پر ایک وائس ریکارڈنگ پیش کی کہ وہ سچے ہیں۔
میں نے اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے کئی مرتبہ قسمیں کھائیں کہ میں نے یہ گناہ نہیں کیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، کیونکہ میں نے سورۃ النور کی آیات 6 سے 9 میں اس مسئلے سے متعلق پڑھا ہے۔ مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق آپ دونوں کا نکاح برقرار ہے، کیونکہ ایسی صورت (یعنی شوہر کے بیوی پر زنا کی تہمت لگانے کی صورت) میں نکاح تب ختم ہوتا ہے جب بیوی کی طرف سے شوہر کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کے بعد میاں بیوی میں سے ہر ایک عدالت کے سامنے سورۂ نور کی مذکورہ آیات کے مطابق پانچ پانچ قسمیں کھا لے، اور اس کے بعد عدالت ان کے درمیان جدائی کا فیصلہ کر دے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں مذکورہ تفصیلات کے مطابق آپ دونوں کے درمیان معاملات عدالت کی سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔
بہرحال! دونوں طرف سے جذبات سے کام لینے کے بجائے خاندان کے معتبر لوگوں کو بٹھا کر اس معاملے کو حل کرنے اور میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اسی میں دونوں کی بھلائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الھدایة: (270/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
إذا قذف الرجل امرأته بالزنا وهما من أهل الشهادة والمرأة ممن يحد قاذفها أو نفي نسب ولدها وطالبته بموجب القذف فعليه اللعان.
امداد المفتین: (ص: 575، ط: دار الاشاعت کراچی)
آپ کے مسائل اور ان کا حل: (316/6، ط: مکتبہ لدھیانوی)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی