resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دو بیٹے، ایک بیٹی، نواسے، نواسی، بہو اور پوتی کے درمیان تقسیمِ میراث (مناسخه)

(36678-No)

سوال: پیر منور شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے تین بیٹے (ڈاکٹر نوید اسلام، اقبال شہزاد اور ناصر علی) اور تین بیٹیاں(نازیہ، نیلوفر اور شیریں) ہیں۔ پیر منور شاہ صاحب کی کچھ جائیدادیں ہیں، پیر منور شاہ صاحب نے جائیداد خود خریدی ہے، البتہ کاغذات بناتے ہوئے انہوں نے اپنے بھائی فیروز شاہ اور بہن فیروزہ شاہ کا نام بھی کاغذات میں لکھوا دیا تھا، ان کو کوئی باقاعدہ ہدیہ وغیرہ نہیں کیا ہے۔
منور شاہ صاحب کی ایک بیٹی (شیریں) کا انتقال ان کی حیات میں ہو گیا تھا، پھر دوسری بیٹی نازیہ کا انتقال والد کے بعد ہوگیا، انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں، شوہر اور ایک بیٹی کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا، اب پیر صاحب کے ایک بیٹے ڈاکٹر نوید اسلام صاحب کا بھی انتقال ہو گیا ہے، ڈاکٹر نوید اسلام صاحب کے ورثاءمیں ایک بیوی اور ایک بیٹی ہے، جبکہ ان کے دو بھائی اور ایک بہن بھی حیات ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ میراث کو شریعت کے مطابق تقسیم فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ شریعت میں کسی چیز کا ہبہ (Gift) درست ہونے کے لیے اس چیز کا مالک بنا کر قبضہ دینا ضروری ہے، ورنہ یہ ہبہ (Gift) تام نہیں ہوتا ہے، اور اسی شخص کی ملکیت میں رہتا ہے۔
لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر بھائی نے وہ مکان صرف بہن بھائی کے نام کیا تھا، لیکن انہیں مکمل اختیارات کے ساتھ قبضہ نہیں دیا تھا، بایں معنی کہ وہ اپنی مرضی سے ان کی زندگی میں اس میں تصرّف (خرید و فروخت وغیرہ) نہیں کر سکتے تھے تو ایسی صورت میں یہ مکان بدستور منور شاہ کی زندگی میں ان کی ملکیت میں ہی شمار ہوگا اور ان کے انتقال کے بعد ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
مرحومین کی تجہیز وتکفین کے جائز اورمتوسط اخراجات،قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیدادمنقولہ اور غیر منقولہ کو ایک سو ساٹھ (160) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے اقبال شہزاد کو چھیالیس (46)، ناصر علی کو چھیالیس (46)، نیلوفر کو تیئیس (23)، نازیہ کے بیٹے کو آٹھ (8)، تینوں زندہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو چار (4)، نوید اسلام کی بیوہ کو پانچ (5) اور بیٹی کو بیس (20) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے اقبال شہزاد کو ٪28.75 فیصد حصہ، ناصر علی کو٪28.75 فیصد حصہ، نیلوفر کو ٪14.375 فیصد حصہ، نازیہ کے بیٹے کو ٪5 فیصد حصہ، نازیہ کی تینوں زندہ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ٪2.5 فیصد حصہ، نوید اسلام کی بیوہ کو ٪3.125 فیصد حصہ اور بیٹی کو ٪12.5 فیصد حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11، 12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .....
فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 176)
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ... الخ

الدر المختار: (689/5، ط: سعید)
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"

الدر المختار: (کتاب الفرائض، 81/6، ط: دار الفکر)
فصل في المناسخة (مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى) وأعطيت سهام كل وارث (ثم الثانية) ... الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster