سوال:
ماضی میں مجھ سے ایک بڑی غلطی (ناجائز تعلق) ہو گئی تھی، مگر اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کر لی ہے، اب میری بیٹی جوان ہو چکی ہے۔ اس گناہ (زنا) کا کسی کو بھی علم نہیں ہے، اور اب ہمارے درمیان کسی قسم کا کوئی غلط یا ناجائز تعلق نہیں ہے۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہہ رہی ہوں کہ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
اب میری بیٹی کے لیے اس لڑکے کا رشتہ آیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب میں اس لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر سکتی ہوں؟ اُس وقت نہ اتنا علم تھا اور نہ ہی اتنی سمجھ تھی، اسی وجہ سے وہ غلطی ہو گئی تھی۔ اب میں نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر لیا ہے اور سچی توبہ کر چکی ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ جس عورت سے زنا کیا جائے، اس عورت کے اصول و فروع زنا کرنے والے شخص پر حرام ہوجاتے ہیں، لہذا جس مرد کے ساتھ آپ کا ناجائز تعلق تھا اور اس مرد اور آپ کے درمیان زنا جیسا شنیع عمل سرزد ہوگیا ہے، اس بناء پر اس مرد کا آپ کی بیٹی سے نکاح کرنا حرام ہے، اگرچہ آپ نے اپنے اس گناہ پر توبہ کرلی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
حاشية ابن عابدين = رد المحتار: (3/ 32، ط: الحلبي)
"(و) حرم أيضاً بالصهرية (أصل مزنيته)، أراد بالزنا في الوطء الحرام، (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة، (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقاً".
(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اه.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (القسم الثاني المحرمات بالصهرية، 1/ 274، ط: دارالفکر)
وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد، كذا في محيط السرخسي. فلو تزوجها نكاحا فاسدا لا تحرم عليه أمها بمجرد العقد بل بالوطء هكذا في البحر الرائق. وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی