عنوان: حاجی کے لیے رمی، قربانی، حلق میں ترتیب قائم رکھنے کا حکم (3702-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! عام حجاج کے لئے مکہ میں کسی اور سے حج کی قربانی کروانا آسان نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ دھوکہ قربانی کے نام پر ہی ہوتا ہے، اسی طرح دس تاریخ کو خواتین کو چھوڑ کر منی کی قربان گاہ جانا بھی ممکن نہیں، سرکاری حج اسکیم میں حکومتی قربانی کروانے میں رَمی، قربانی اور حلق میں عملاً ترتیب یقینی نہیں رہتی، ایسی صورت حال میں کیا سرکاری قربانی ظنی ترتیب کے ساتھ کر سکتے ہیں؟
ظنی ترتیب سے مراد یہ ہے کہ صبح رَمی جلد سے جلد ادا کی جائے اور ان کے بتائے ہوئے متوقع قربانی کے اخیر وقت کے ایک دو گھنٹے بعد حلق کر لیا جائے، اورپھر احرام کھول لیا جائے.
واضح رہے قربانی کے نظم میں SMS کے ذریعے اطلاع کا کہا تو جاتا ہے، لیکن ہر سال کا تجربہ یہی ہے کہ پیغام اُسی دن نہیں ملتے.

جواب: واضح رہے کہ فقہاء حنفیہ کے نزدیک حج کے تین احکام یعنی رمی، قربانی اور حلق کو بالترتیب ادا کرنا واجب ہے، لہذا حنفی حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس ترتیب کی رعایت کریں، مثلا: قران اور تمتع کرنے والے حضرات بتائے ہوئے وقت سے پہلے قصر و حلق نہ کریں، بلکہ حسب استطاعت اس قدر تاخیر کے ساتھ حلق یا قصر کریں کہ دل میں ان کی قربانی ہو جانے کا ظن غالب یعنی غالب رجحان پیدا ہو جائے۔
نیز شرعی لحاظ سے دیانات میں ایک ثقہ مسلمان کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، لہذا اگر وکیل یہ کہہ دے کہ آپکی قربانی ہوگئی ہے اور بظاہر اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، تو ایسی صورت میں آپ کے لئے حلق و قصر کر لینا جائز ہے .
تاہم اگر حاجی اپنی حتی المقدور کوششوں کے باوجود یوم النحر کے مناسک ترتیب واجب کے مطابق ادا نہ کر سکے، اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے ترتیب کو قائم نہ رکھ سکے، تو ایسی مجبوری میں اگر ان افعال کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہو جائے، تو چونکہ حضرات صاحبین اور آئمہ ثلاثہ کے نزدیک ترتیب واجب نہیں اور نہ ہی خلاف ترتیب کی صورت میں دم واجب ہے، اس لیے مالی وسعت نہ ہونے کی صورت میں اگر ان کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دم نہ دیا جائے، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر کوئی اس کے باوجود دم دیدے، تو زیادہ احتیاط کی بات ہے۔
(ماخذه: فتاوی دارالعلوم کراچی، تبویب ۳۰/١٥٦٤)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الایۃ: 196)
وَلَا تَحْلِقُوْا رُؤُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ۔۔۔۔الخ

البحر الرائق: (24/3، ط: سعید)
"اعلم أن ما یفعل في أیام النحر أربعۃ أشیاء: الرمي والنحر والحلق والطواف، وہٰذا الترتیب واجب عند أبي حنیفۃ ومالک وأحمد".

الفتاوى الهندية: (كتاب الكراهية، 308/5، ط: دار الفكر)
"خبر الواحد يقبل في الدیانات کالحل والحرمة والطهارة والنجاسة إذا كان مسلما عدلا ذكرا اوانثی حرا او عبدا محدود اأو لا، ولا يشترط لفظ الشهادة والعيد، كذا في الوجيز للكردري، وهكذا في محيط السرخسي والهداية، ولايقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قوله في الديانات، فحينئذ تدخل الديانات في ضمن العاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1134 Mar 05, 2020
Haji, Haaji, kay, liay, liey, rami, rame, qurbani, qurbaani, halq, mein, main, tarteeb, tartib, qaim, rakhnay, rakhne, ka, hukm, hukum, Ruling of following the sequence of stoning the devil, sacrifice of animal, and head shave by Haji, Following Sequence in Hajj, Hair cut, sacrifice, sacrificial animal, slaughter

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.