resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طلاق کا حق استعمال کرتے ہوئے بیوی نے شوہر کو میسج کیا کہ "میں تمہیں طلاق دیتی ہوں"

(37690-No)

سوال: ایک عورت کے شوہر نے اس عورت کو یہ حق دیا کہ اگر صبح 9 بجے تک طلاق لینا چاہو تو میں تمہیں حق دیتا ہوں، بیوی نے صبح 8 بجے شوہر کو میسج کیا کہ" میں تمہیں طلاق دیتی ہوں" اور یہ الفاظ ایک بار کہے ہیں۔ براہ کرم اس کا حکم ارشاد فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ طلاق کا محل بیوی ہے شوہر نہیں، اس لیے طلاق دیتے وقت بیوی کی طرف صراحتاً یا دلالۃً نسبت کرنا ضروری ہے۔ سوال میں پوچھی گئی صورت میں جو الفاظ بیوی نے شوہر کو میسج کیے ہیں، ان میں چونکہ بیوی کی طرف کسی قسم کی نسبت نہیں کی گئی ہے، اس لیے ان الفاظ سے بیوی پر کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، لہذا میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تبیین الحقائق: (208/2، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)
الزَّوْجُ إذَا طَلَّقَ نَفْسَهُ أَوْ طَلَّقَتْهُ هِيَ لَا تَطْلُقُ الْمَرْأَةُ لِعَدَمِ إضَافَتِهِ إلَى الْمَحَلِّ
وَلِأَنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يُطَلِّقَ الْإِنْسَانُ وَيَقَعَ الطَّلَاقُ عَلَى غَيْرِ الْمُطَلَّقِ۔

رد المحتار: (250/3، ط: ایچ ایم سعید)
لكن لا بد في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها.

(کذا فی فتویٰ جامعہ بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144103200370)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce