سوال:
میں اپنی مرضی اور پسند سے ایک شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، جس میں بظاہر کوئی برائی نہیں ہے، وہ پڑھا لکھا ہے، حافظِ قرآن ہے، یو کے میں طالبِ علم ہے اور سیٹل ہے۔ میرے والدین شروع سے اس رشتے کے خلاف ہیں، صرف ذات (کاسٹ) کی وجہ سے۔ وہ لوگ بہاری ملک ہیں اور ہم اردو اسپیکنگ سید ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی فیملی بڑی ہے اور ہماری فیملی چھوٹی ہے۔ اس وقت ان کا اپنا ذاتی گھر نہیں تھا، البتہ تمام بھائیوں کے اپنے اپنے اپارٹمنٹس ہیں۔
یہ معاملہ پچھلے سات سال سے اسی طرح رکا ہوا ہے۔ میرے والدین کا دل ذرا بھی نرم نہیں ہوا۔ وہ لوگ چار پانچ مرتبہ رشتہ لے کر آئے، لیکن میرے گھر والوں نے ہر بار انکار کر دیا۔ میں نے کبھی اپنے والدین سے بدتمیزی نہیں کی۔ میرے والدین نے ہر ہر بات کو انکار کی وجہ بنا لیا ہے۔ میری عمر اب 29 سال ہو چکی ہے، لیکن وہ اپنی ضد کی بنا پر میری شادی نہیں کر رہے۔
1) میری امّی نے پچھلے سات سال سے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے، وہ مجھے گالیاں اور بددعائیں دیتی ہیں اور بہت زیادہ مارتی بھی ہیں، انہوں نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔
2) ایسے والدین کے لیے کیا حکم ہے جو بچوں کی زندگی حرام کر دیتے ہیں؟ میں نے ہر طرح سے انہیں سمجھانے اور بات کر کے راضی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب میرا دل اپنے والدین کے لیے بہت زیادہ بُرا ہو گیا ہے۔
3) براہِ کرم مجھے کوئی دعا یا مستند پڑھنے کا عمل بتائیں جس سے یہ معاملہ حل ہو جائے اور اللہ بہتری فرما دے، کیونکہ اب وقت بھی کم ہے اور میرا کوئی اور رشتہ بھی نہیں آیا۔ کوئی ایسی دعا بتائیں جس سے میرے والدین کا دل نرم ہو جائے اور وہ یہ شادی کر دیں۔ میں اس وقت حد سے زیادہ مشکل میں ہوں۔ براہِ کرم میری مدد کریں۔
جزاک اللہ
جواب: واضح رہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اگر اس کے لیے مناسب رشتہ مل جائے تو اس میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرنا؛ نماز میں جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ میں جب وہ حاضر ہوجائے اور بیوہ عورت (کے نکاح میں) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر) مل جائے"۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر:171)
اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اُس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فسادِ عظیم برپا ہوگا۔" (سنن ترمذی، حدیث نمبر:1084)
اسی سے متعلق ایک اور حدیث حضرت ابوسعید اور حضرت ابن عبّاس رضی اللّٰہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم نے فرمایا:"جس کے ہاں بچّہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کرے، اگر وہ بالغ ہوجائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور پھر وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے۔"(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر:3138)
عموماً ہمارے ہاں جب لڑکیوں کے مناسب رشتے آتے ہیں، اس وقت ہم تکبّر اور نخروں سے کام لیتے ہوئے مزید بہتر کی تلاش میں ان رشتوں کو ٹال دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کے لئے مناسب رشتہ تلاش کرتے ہیں، لیکن کوئی مناسب رشتہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے عموماً لڑکیاں زندگی بھر کنواری رہ جاتی ہیں اور نفسیاتی اور اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
مذکورہ بالا احادیث میں اسی خرابی کا علاج بتایا گیا ہے، اس لیے مناسب عمر میں مناسب رشتے کو نہیں ٹھکرانا چاہیے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہوتا ہے۔
نیز یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کے معاملے میں کفو کا لحاظ ضرور رکھا ہے، تاہم اسے نکاح کی صحت کے لیے لازمی شرط قرار نہیں دیا گیا، لہذا اگر لڑکی اور اس کے تمام اولیاء اس رشتے پر مطمئن اور راضی ہوں تو ایسا نکاح شرعاً درست ہوگا، البتہ اگر لڑکی اپنے اولیاء کی رضامندی کے بغیر غیر کفؤ میں نکاح کر لے تو اولیاء کو بچے کی ولادت سے قبل نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ لڑکا نسب کے اعتبار سے سیّد نہیں، اس لیے وہ سیدہ لڑکی کا کفؤ نہیں بنتا، لیکن اگر لڑکی اور اس کے تمام اولیاء اس نکاح پر رضامند ہوں تو غیر سید لڑکے سے نکاح شرعاً جائز ہے، محض اس بنیاد پر کہ وہ غیر سید ہے، رشتے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
البتہ اگر رشتے سے انکار کی کوئی واقعی معقول اور شرعی وجہ موجود ہو تو والدین کو چاہیے کہ وہ سختی، جبر یا تشدّد کے بجائے محبت، نرمی اور شفقت کے ساتھ اپنی اولاد کو اس سے آگاہ کریں۔ اسی طرح بیٹی پر بھی لازم ہے کہ وہ والدین کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھے اور نکاح جیسے اہم معاملے میں ان کی رضامندی شامل رکھنے کی بھرپور کوشش کرے۔
نیز بالغ بیٹی کو اس عمر میں مارنا پیٹنا یا اس پر تشدد کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ اگر کوئی بات قابلِ اصلاح ہو تو اسے سختی کے بجائے محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔
لہذا ایسی صورتِ حال میں آپ کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرتی رہیں کہ: "یا اللہ! اگر یہ رشتہ میرے حق میں بہتر ہے تو اسے آسانی اور عافیت کے ساتھ میرے لیے مقدر فرما۔" اور ہر نماز کے بعد سورۂ قصص کی آیت (24) پڑھنے کا اہتمام کریں:
﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
جامع ترمذی:رقم الحدیث:171)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا : الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا ".
جامع ترمذی:(رقم الحدیث:1084)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ، وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ".
مشکوٰۃ المصابیح:(رقم الحدیث:3138)
ﻭﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻻ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﻣﻦ ﻭﻟﺪ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻓﻠﻴﺤﺴﻦ اﺳﻤﻪ ﻭﺃﺩﺑﻪ ﻓﺈﺫا ﺑﻠﻎ ﻓﻠﻴﺰﻭﺟﻪ ﻓﺈﻥ ﺑﻠﻎ ﻭﻟﻢ ﻳﺰﻭﺟﻪ ﻓﺄﺻﺎﺏ ﺇﺛﻤﺎ ﻓﺈﻧﻤﺎ ﺇﺛﻤﻪ ﻋﻠﻰ ﺃﺑﻴﻪ.
بدائع الصنائع: (317/2، ط: دار الكتب العلمية)
وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم»حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض.
الدر المختار مع رد المحتار: (56/3، ط: دار الفكر)
(وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والاصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الاصح. خانية.... وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد، وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به.
(قوله في غير الكفء) أي في تزويجها نفسها من غير كفء، وكذا له الاعتراض في تزويجها نفسها بأقل من مهر مثلها، حتى يتم مهر المثل أو يفرق القاضي كما سيذكره المصنف في باب الكفاءة (قوله فيفسخه القاضي) فلا تثبت هذه الفرقة إلا بالقضاء لأنه مجتهد فيه وكل من الخصمين يتشبث بدليل، فلا ينقطع النكاح إلا بفعل القاضي والنكاح قبله صحيح يتوارثان به إذا مات أحدهما قبل القضاء وهذه الفرقة فسخ لا تنقص عدد الطلاق، ولا يجب عندها شيء من المهر إن وقعت قبل الدخول وبعده لها المسمى وهذا بعد الخلوة الصحيحة، وعليها العدة ولها نفقة العدة لأنها كانت واجبة فتح، ولها أن لا تمكنه من الوطء حتى يرضى الولي كما اختاره الفقيه أبو الليث لأن الولي عسى أن يفرق فيصير وطء شبهة.
الدر المختار مع رد المحتار: (87/3، ط: دار الفكر)
(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك (نسبا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض، واستثنى في الملتفى تبعا للهداية بني باهلة لخستهم، والحق الاطلاق. قاله المصنف كالبحر والنهر والفتح والشرنبلالية، ويعضده إطلاق المصنفين كالكنز والدرر، وهذا في العرب.
(قوله وأما في العجم) المراد بهم من لم ينتسب إلى إحدى قبائل العرب، ويسمون الموالي والعتقاء كما مر وعامة أهل الأمصار والقرى في زماننا منهم، سواء تكلموا بالعربية أو غيرها إلا من كان له منهم نسب معروف كالمنتسبين إلى أحد الخلفاء الأربعة أو إلى الأنصار ونحوهم.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصّواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی