سوال:
اسلام میں عارضی خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کے درمیان وقفہ (چلڈرن اسپیسنگ) کے جواز کا علم مجھے ہے۔
میرا خاص سوال یہ ہے کہ اگر شوہر اور بیوی جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوں، جہاں پرائیویسی کا شدید مسئلہ ہو، ازدواجی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہو اور مستقبل میں بچوں کے لیے الگ کمرہ یا مناسب رہائش کا انتظام فی الحال ممکن نہ ہوتو کیا صرف ان ازدواجی اور پرائیویسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر باہمی رضامندی کے ساتھ عارضی طور پر حمل کو مؤخر (Pause/Delay) کرنا شرعاً جائز اسباب میں شمار ہوتا ہے؟ براہِ کرم قرآن، سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ بلا عذر شرعی وقتی مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنا مکروہ ہے، خصوصاً رزق کی تنگی کے خدشے کے پیش نظر یہ عمل بالکل ناجائز ہے، چونکہ کھانا پینا، رہائش وغیرہ اسبابِ رزق میں سے ہیں، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں مستقبل میں رہائش کی تنگی کے پیش نظر وقتی طور پر مانع حمل تدبیر اختیار کرنا مکروہ ہے، تاہم اگر مقصد یہ ہو کہ صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے فسادِ زمانہ کو دیکھتے ہوئے بچہ بد اخلاق اور والدین کی رسوائی کا سبب ہوگا تو ایسی صورت میں وقتی مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کی اجازت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (176/3، دار الفکر)
وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها. اه. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح وبه جزم القهستاني أيضا حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء لفساد الزمان وإلا فيجوز بلا إذنها. اه. لكن قول الفتح فليعتبر مثله إلخ يحتمل أن يريد بالمثل ذلك العذر، كقولهم: مثلك لا يبخل. ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل۔
کذا فی احسن الفتاوی: (347/8، ط: ایچ ایم سعید)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی