resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امامت کروانے اور تراویح پڑھانے پر دیے جانے والے وظیفہ کا حکم

(39836-No)

سوال: السلام علیکم! حضرت اگر کوئی شخص حافظ قرآن ہے اور وہ پورے سال تو کام کرتا ہے، صرف رمضان میں امامت کراتا ہے اور تراویح میں قرآن سناتا ہے، مثلاً: وہ شخص اس مسجد میں جس میں امامت کراتا ہے، رمضان میں پچیس یا ستائیس دن تک تراویح میں قرآن بھی سناتا ہے اور پھر ختم تراویح کی دعا کے دن ہی اہل محلہ حضرات اس کو امامت کے ساتھ مزید رقم بڑھا کر دیتے ہیں، یعنی امامت کی تنخواہ طے ہوئی تھی دس ہزار لیکن وہ اس امام کو پندرہ یا بیس ہزار روپے دیتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس شخص کو یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ پوری رقم یا آدھی رقم قرآن سنانے کی اجرت میں داخل ہوگی؟ برائے کرم جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں، نوازش ہوگی۔

جواب: واضح رہے کہ تراویح میں قرآنِ کریم سنانے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر پہلے سے کوئی اجرت طے نہ کی گئی ہو اور اہلِ محلہ اپنی رضامندی سے بطورِ ہدیہ یا عطیہ کچھ دے دیں تو اسے قبول کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ ضرورت کے پیشِ نظر پنج وقتہ نمازوں کی امامت کروانے پر وظیفہ لینا متاخرین فقہائے احناف کے نزدیک جائز ہے، لہٰذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں پنج وقتہ نماز اور تراویح کی مجموعی رقم کو مکمل طور پر امامت کا وظیفہ قرار دے دیا جائے تو اس کے لینے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
حاشیة ابن عابدین: (373/5، ط: سعید)
ولا یلحق بالقاضي فیما ذکر المفتي والواعظ ومعلم القرآن والعلم؛ لأنہم لیس لہم أہلیۃ الإلزام، و الأولی في حقہم إن کانت الہدیۃ لأجل مایحصل منہم من الإفتاء الوعظ والتعلیم عدم القبول لیکون عملہم خالصاً ﷲ تعالی، وإن أہدی إلیہم تحبباً وتودداً لعلمہم وصلاحہم، فالأولی القبول۔

حاشیة ابن عابدین: (6/ 56، ط: سعید)
وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا –إنالله وإنا إليه راجعون۔

حاشیة ابن عابدین: (6/ 55، ط: سعید)
(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اه،

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers