سوال:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں "شاف" نام کس معنی میں ہے ؟ نیز اگر کوئی اپنے بچے کا نام اس نام کے مطابق شافی رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: "شافی" جسے شاف (Shaaf) (ف کے نیچے دو زیر) بھی لکھا جاتا ہے، جس کے معنی شفا دینے والے کے آتے ہیں، تلاش کے باوجود حضور اکرم ﷺکے ناموں میں اس نام کا ثبوت نہیں مل سکا، اور شفا دینا چونکہ اللہ رب العزت کی صفت ہے، اسلئے بچے کا نام "شافی"(Shaafee) یا "شاف" نہیں رکھا جاسکتا، البتہ "شافع" (بمعنی شفاعت کرنے والا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ثابت ہے، اس لئے بچے کا نام "شافع" یا "محمد شافع" رکھا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (باب دعاء العائد للمریض، رقم الحدیث: 5675)
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اتی مریضا او اتی بہ، قال: "اذھب الباس رب الناس، اشف وانت الشافی لا شفاء الا شفاءک، لا یغادر سقما"
مصنف ابن ابی شیبة: (باب ما اعطاہ اللہ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم، رقم الحدیث: 31728)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: "انا سید ولد آدم یوم القیمۃ، و اول من ینشق عنہ القبر، و اول شافع مشفع"
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی