سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا لڑکی دولہا کو اپنا وکیل مقرر کر سکتی ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ لڑکی کے فون پر ہوتے ہوئے نکاح منعقد ہو جائے گا یا اس کا نکاح کی مجلس میں ہونا ضروری ہے؟
جواب: 1۔ لڑکی کا لڑکے کو خود اپنے نکاح کا وکیل بنانے سے نکاح منعقد ہو جائے گا-
2۔ شرعا نکاح کے درست ہونے کے لیے ایجاب و قبول کا دو گواہوں کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ہونا ضروری ہے اور ٹیلی فون پر مجلس ایک نہیں ہوتی ہے، اس لیے ٹیلی فون کے ذریعے نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (98/3، ط: دار الفکر)
للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر
البحر الرائق: (89/3، ط: دار الکتاب الاسلامی)
شرائط الإيجاب والقبول فمنها اتحاد المجلس إذا كان الشخصان حاضرين فلو اختلف المجلس لم ينعقد
الھندیة: (268/1، ط: دار الفکر)
رجل زوج ابنته من رجل في بيت وقوم في بيت آخر يسمعون ولم يشهدهم إن كان من هذا البيت إلى ذلك البيت كوة رأوا الأب منها تقبل شهادتهم وإن لم يروا الأب لا تقبل، كذا في الذخيرة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی