سوال:
آپ ﷺ نےارشاد فرمایا : ’’جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی دینے کا ارادہ ہو تو وہ بال، ناخن یا کھال کا کچھ حصہ نہ کاٹے، جب تک قر بانی نہ دے دے."
پوچھنا یہ تھا کہ جو بال wax یا threading سے ہٹائے جائیں تو کیا وہ اس حکم کے زمرے میں آتے ہیں؟ کیونکہ wax threading سے تو اکھاڑے جاتے ہے، جبکہ اس حدیث میں تراشنے کا کہا گیا ہے۔
جواب: واضح رہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے ذُو الحِجَّہ میں بال اور ناخنوں سے گریز کرنے کے متعلق روایات میں بال اور ناخن نہ لینے اور ان کو روکے رکھنے کے الفاظ بھی آئے ہیں جیساکہ صحیح مسلم میں حضرتِ امِّ سَلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم ذو الحِجَّہ کا چاند دیکھو تو تم میں سے جس کا قربانی کا ارادہ ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بال اور ناخنوں کو روکے رکھے"۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1977)
اس طرح کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے ان دس دنوں میں بال وغیرہ کو کسی بھی طریقے سے دور کرنے سے بچنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الصحیح لمسلم: (1565/3، رقم الحدیث: 1977، ط: دار إحياء التراث العربي)*
عن أم سلمة ترفعه قال: (إذا دخل العشر، وعنده أضحية، يريد أن يضحي، *فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا*).
*فيه أيضاً: (1565/3، رقم الحدیث: 1977، ط: دار إحياء التراث العربي)*
عن أم سلمة، إن النبي صلى الله عليه وسلم قال (إذا رأيتم هلال ذي الحجة، وأراد أحدكم أن يضحي، *فليمسك عن شعره وأظفاره).*
*المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (138/13، دار إحياء التراث)*
قال أصحابنا والمراد بالنهي عن أخذ الظفر والشعر النهى عن إزالة الظفر بقلم أوكسر أو غيره *والمنع من إزالة الشعر بحلق أو تقصير أو نتف أو إحراق أو أخذه بنورة أو غير ذلك* وسواء شعر الإبط والشارب والعانة والرأس وغير ذلك من شعور بدنه.
*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (1081/3، ط: دار الفكر)*
(وفي رواية: فلا يأخذن) : بنون التأكيد *أي: لا يزيلن.* (شعرا، ولا يقلمن) : بكسر اللام مع فتح الياء وقيل بالتثقيل أي: لا يقطعن.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی