سوال:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں عبادت وغیرہ کی فضیلت میں عید الاضحیٰ کا دن بھی شامل ہے؟ یعنی کیا عید کے دن بھی عبادت کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ عید دسویں تاریخ کو ہوتی ہے، لیکن میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ عید کا دن بھی ان بابرکت دس دنوں میں شامل ہے اور اس لیے اس دن کو بھی خوب نیکیوں میں صرف کرنا چاہیے۔
جواب: جی ہاں! عیدالاضحیٰ کا دن ذو الحجہ کے دس دنوں کی فضیلت میں شامل ہے، کیوںکہ اسلام میں عید کا دن اصلاً عبادت کا دن ہے، جس کی اصل عبادت نمازِ عید، قربانی اور خوشی کا اظہار ہے، البتہ اس دن نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن عید الاضحی والے دن تسبیح، تہلیل، تکبیراتِ تشریق، صدقہ، حسنِ سلوک، قرآن کی تلاوت، ذکر اور عام نیکیاں اسی طرح ثواب رکھتی ہیں، جیسے ذی الحجہ کے باقی نو دنوں میں ہیں، ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ قرآن و حدیث کے مطابق سال کے تمام دنوں میں افضل ترین عشرہ ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اس کی عظمت و اہمیت کو بیان فرمایا ہے: "قسم ہے فجر کے وقت کی، اور دس راتوں کی، اور جفت کی اور طاق کی۔" (سورۃ الفجر: آیت نمبر:1،2،3)
اکثر مفسّرین کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے دس دن ہیں اور علامہ ابن جریر طبری اور ابن رجب حنبلی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
بعض احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: "دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے اور طاق سے مراد یوم عرفہ ہے اور جفت سے مراد عید الاضحی کا دن ہے۔" (مسندِ احمد حدیث نمبر: 14511)
ایک حدیث میں ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن دنیا کے تمام دنوں میں سب سے افضل ہیں۔ (مسند ابی حنیفۃؒ، حدیث نمبر: 15)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام دلائل سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت اور خصوصیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمام بڑی اور اصل عبادتیں اس کے اندر یکجا ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، صدقہ و خیرات (قربانی) اور حج، جبکہ کسی بھی موقع پر یہ ساری عبادتیں اکھٹی نہیں ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الفجر، الآية: 1، 2)
وَالْفَجْرِ o وَلَيَالٍ عَشْرٍ o
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي: (رقم الحديث: 15، ط: الآدا، مصر)
عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ الْأَضْحَى، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى»
مسند أحمد: (رقم الحديث: 14511، 389/22، ط: الرسالة)
حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا عياش بن عقبة، حدثني خير بن نعيم، عن أبي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إن العشر عشر الأضحى، والوتر يوم عرفة، والشفع يوم النحر".
سنن أبي داود: (رقم الحديث: 1134، 345/2، ط: دار الرسالة العالمية)
حدثنا موسى بنُ إسماعيل، حدثنا حماد، عن حُميد عن أنسِ، قال: قَدِمَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم المدينةَ ولهم يَوْمَانِ يلعبون فيهما، فقال: "ما هذان اليومَان؟ " قالوا: كنا نلعبُ فيهما في الجاهلية، فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "إنَّ الله قَدْ أبدَلَكُم بهما خَيرَاً مِنهما: يَومُ الأضحى، ويَومُ الفِطرِ"(1).
فتح الباري لابن حجر: (460/2، ط: السلفية)
والذي يظهر أن السبب في امتياز عشر ذي الحجة لمكان اجتماع أمهات العبادة فيه، وهي الصلاة والصيام والصدقة والحج، ولا يتأتى ذلك في غيره.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی