سوال:
ہمارے گاؤں میں ایک بچہ بیمار ہوا تھا، اس کے لیے کچھ جوانوں نے علاج کے لئے رقم جمع کیے تھے، 38 ہزار روپیہ جمع ہوئے لیکن اس بچہ کا انتقال ہو گیا، وہ رقم باقی رہ گئی، چنانچہ اس رقم میں اور پیسے ڈالے گئے اور پیسے ڈالنے کے وقت یہ نیت کی گئی کہ ہم الیکٹرانک فریزر لائیں گے اور وہ ہندو مسلمان سب مذہب والوں کے لئے استعمال ہوگا، لیکن اب مسئلہ یہ ہو رہا ہے کہ گاؤں کے لوگ اس کو پسند نہیں کر رہے کہ ہم غیروں کو یہ الیکٹرانک فریزر دیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ غیروں کا جسم اچھا نہیں ہوتا ہے پاک نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ کافروں کو الیکٹرانک فریزر نہیں دینا چاہیے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ دینا چاہیے۔ عوام دینے سے منع کر رہی ہیں اور کچھ مالدار قسم کے لوگ غیروں کو دینے کی بات کررہے ہیں،آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا غیروں کو الیکٹرانک فریزر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس معاملہ میں جھگڑا بھی نہ ہو، اس طرح کا فیصلہ قران و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ بیمار بچے کے لیے رقم جمع کرانے کے بعد باقاعدہ بچے کے حوالے کر دی گئی تھی تو یہ رقم بچے کی ملکیت شمار ہوگی، لہٰذا بچے کے انتقال کے بعد اس کے لیے جمع کی گئی رقم کہیں اور خرچ کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ یہ رقم اس کی میراث شمار ہوکر اس کے ورثاء کے درمیان شرعی طریقۂ کار کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
البتہ اگر یہ رقم باقاعدہ بچے کے حوالے نہیں کی گئی تھی بلکہ فنڈ کے طور پر جمع کر رکھی تھی تو اس صورت میں دینے والوں کی اجازت سے اسے کسی بھی خیر کے کام میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا اگر گاؤں کے لوگوں کے لیے الیکٹرونک فریزر کی ضرورت ہے تو صرف غیر مسلموں کے استعمال کی وجہ سے اس کے لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ تعاون اور اسلام کے قریب آنے کی نیت سے اجازت دینی چاہیے، امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ عمل کسی کے اسلام کی طرف آنے اور مسلمانوں کے لیے بڑے اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: (691/5، ط: دار الفکر)*
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا.
*الفتاوى الهندية: (161/1، ط: دار الفكر)*
رجل مات في مسجد قوم فقام أحدهم وجمع الدراهم ففضل من ذلك شيء إن عرف صاحب الفضل رده عليه وإن لم يعرف كفن به محتاجا آخر وإن لم يقدر على صرفه إلى الكفن يتصدق به على الفقراء، كذا في فتاوى قاضي خان.
کذا فی فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:(Fatwa: 442-171/TD-Mulhaqa=7/1443
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی