سوال:
ایصال ثواب کا طریقہ معاشرے میں جس طرح رائج ہے کہ مرنے والے کے کچھ دن بعد ایصال ثواب کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں عمومی و خصوصی اقربا و رشتے داروں کو دعوت دی جاتی ہے اور اس میں طعام کا انتظام ہوتا ہے اور علماء کرام کو مدعو کیا جاتا ہے اور علماء کرام کا بیان ہوتا ہے، بیان کے بعد مروّجہ ختم قرآن پڑھا جاتا ہے (قرآن مجید سے کچھ آیت کہیں سے اور کچھ سورتیں کہیں سے مخصوص کی ہوئی ہیں) پھر اس ختم قرآن کو پڑھنے والا دوسرے مولوی کو ملک کرتا ہے، وہ مولوی دعا کرواتا ہے، دعا کے بعد طعام کھلایا جاتا ہے، اس ضمن میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
(1) کیا ایصال ثواب کا اجتماع جائز ہے؟
(2) کیا ایصال ثواب کے لئے دنوں کی تخصیص جائز ہے؟
(3)کیا مروّجہ ایصال ثواب کی مجلس میں علماء کرام کا شرکت کرنا جائز ہے؟
(4) کیا مروّجہ ختم قرآن پاک پڑھنا جائز ہے؟
(5) کیا مروّجہ ختم قرآن ملک کرنا جائز ہے؟
عوام الناس کہتی ہے کہ اگر اس طرح ایصال ثواب کرنا درست نہیں تو علماء کرام نے شرکت کیوں کی؟ یہ طریقہ جائز ہے تبھی تو علماء کرام نے شرکت کی ہے۔ اور ہمارے علماء کرام فرماتے ہیں کہ ہم ان کو مانوس کر رہے ہیں یا یہ فرماتے ہیں کہ خراب پانی میں قیمتی ہیرا پڑا ہو تو اس کو اٹھا نے کیلے ہاتھ تو ناپاک تو کرنے پڑیں گے یا پھر کہتے ہیں کہ اگر ہم نہ جائیں گے تو اور مولوی آئیں گے ان کو زیادہ گمراہ کریں گے، اس لیے جاتے ہیں اور جب علماء کرام بیان کرتے ہیں تو مسئلہ میراث یا ایصال ثواب کا درست طریقہ نہیں بتاتے، ادھر ادھر کی بات کرجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابھی وقت نہیں ہے یہ مسئلہ بتانے کا عوام متحمل نہیں ہے، لہذا اس مسئلہ کے بارے میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔
جواب: 1/ 2) میّت کے لیے ایصال ثواب کے لیے قرآن شریف پڑھنا یا صدقہ خیرات کرنا مستحب عمل ہے، تاہم اجتماعی طور پر اس کا اہتمام کرنا یا اس کے لیے دنوں کی تخصیص کرنا یا کسی مخصوص تاریخ کا تعیّن کرنا ثابت نہیں ہے، اور اگر اس کو سن}ت یا لازم سمجھ کر کیا جائے اور شرکت نہ کرنے پر طعن و تشنیع کی جائے تو یہ بدعت ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
3) جہاں تک علمائے کرام کی شرکت کا تعلق ہے تو اگر وہ ایسے مقتدا علماء ہوں جن کے جانے کی وجہ سے اس عمل کو اچھا سمجھا جاتا ہو، اور ان کے نہ جانے کی وجہ سے اس کو ناجائز سمجھا جاتا ہو تو ان کے لیے کسی صورت بھی شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔
لیکن اگر وہ علماء ایسے مقتدا نہ ہوں، اور ان کا وہاں جا کر سمجھانا مفید ہوسکتا ہو تو اگر وہ سمجھانے کی نیت سے جائے اور وہاں جاکر ان کو بدعات و منکرات سے منع کرے، تاکہ دوسرے لوگ ان کو گمراہ نہ کرسکیں تو ایسی صورت میں ان کو ایسی مجلس میں جاکر وعظ و نصیحت کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔
4. مروّجہ اجتماعی قرآن خوانی کے لیے درج ذیل لنک پر تفصیلی فتویٰ ملاحظہ ہو:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=5360
5. "ختم قرآن ملک" سے آپ کی کیا مراد ہے؟ برائے مہربانی اپنا سوال واضح کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (5/ 127، رقم الحديث: 3221، ط: الرسالة)
باب الاستغفار عند القبر للميت:
حدَّثنا إبراهيمُ بن موسى الرازيُّ، حدَّثنا هشامٌ -يعني: ابن يوسف-، عن عبدِ الله بن بَحِير، عن هانىء مولى عثمانَ عن عثمان بن عفان، قال: كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقفَ عليه فقال: "اسْتَغفِرُوا لأخيكُم وسَلُوا له بالتثبيت؛ فإنه الآن يُسألُ".»
الدر المختار: (2/ 239 إلى 242، ط: دار الفكر)
«وبتعزية أهله وترغيبهم في الصبر وباتخاذ طعام لهم وبالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام، وأولها أفضل. وتكره بعدها إلا لغائب. وتكره التعزية ثانيا، وعند القبر، وعند باب الدار؛ ويقول عظم الله أجرك، وأحسن عزاءك، وغفر لميتك»
وفي رد المحتار تحته:
قلت: وما في البحر من «أنه صلى الله عليه وسلم جلس لما قتل جعفر وزيد بن حارثة والناس يأتون ويعزونه» اه يجاب عنه بأن جلوسه صلى الله عليه وسلم لم يكن مقصودا للتعزية. وفي الإمداد: وقال كثير من متأخري أئمتنا يكره الاجتماع عند صاحب البيت ويكره له الجلوس في بيته حتى يأتي إليه من يعزي، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن فليتفرقوا ويشتغل الناس بأمورهم وصاحب البيت بأمره اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی