عنوان: اجتماعی طور پر قرآن خوانی کا حکم(5360-No)

سوال: قرآن خوانی میں اکثر ایک سپارہ دو لوگ اس طرح ایک ساتھ پڑھتے ہیں کہ سپارہ کا ایک صفحہ ایک شخص پڑھتا ہے اور دوسرا صفحہ دوسرا شخص پڑھتا ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب: قرآن مجید کی تلاوت بلا شبہ ایک بڑی عبادت اور خیر وبرکت کا ذریعہ ہے اور ایصال ثواب کے لئے اس کی تلاوت کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے اور یہ عبادت اجتماعی اور انفرادی دونوں صورتوں میں جائز ہے۔
واضح رہے کہ شریعت نے اس کے لیے کوئی خاص صورت اور ہیئت متعین نہیں کی ہے، اس لیے سب کا ایک جگہ جمع ہوکر قرآن خوانی کرنا نہ فرض ہے نہ واجب ہے اور نہ ہی سنت ہے، البتہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے مندرجہ ذیل چند شرائط کا خیال رکھا جائے تو قرآن خوانی کرنا جائز ہے:
۱) قرآن خوانی کے لئے کسی خاص دن یا وقت کا تعین نہ کیا جائے، مثلاً: سوئم، چہلم، برسی وغیرہ۔
۲) قرآن خوانی میں شرکت کرنے والوں کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہو، عزیز واقارب اور دوست واحباب وغیرہ کو دکھلاوا مقصود نہ ہو اور نہ ہی اہل میت کی وجہ سے مجبور ہوکر شریک ہوا جائے۔
۳) شرکت نہ کرنے والوں پر کسی قسم کی طعن و تشنیع نہ کی جائے، کیونکہ یہ شریعت کا کوئی لازمی جز یا رکن نہیں ہے۔
۴) قرآن مجید کی تلاوت صحیح انداز میں کی جائے، اگرچہ تھوڑی مقدار میں کی جائے، سپارہ ختم کرنے کی فکر میں جلدی جلدی غلط نہ پڑھا جائے، اسی طرح سوال میں ذکر کردہ طریقے کے مطابق پڑھنا بھی مناسب نہیں ہے۔
۵) قرآن مجید کی تلاوت کسی معاوضے (کھانا، شیرینی یا رقم وغیرہ) کے لالچ میں نہ کی جائے، ورنہ پڑھنے والے کو ثواب نہیں ملے گا، بلکہ الٹا پکڑ کا اندیشہ ہے، چہ جائیکہ اس کا ثواب میت کو پہنچے۔
مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے چند لوگوں کا مل کر قرآن خوانی کرنا جائز ہے۔
یاد رہے کہ شریعت مطہرہ میں اجتماعی قرآن خوانی کرنے سے انفرادی طور پر قرآن کی تلاوت کرنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس میں اخلاص زیادہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی البزازیة: (38/1)
ویکرہ اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ ایام واکلھا لانہ مشروعۃ للسرور مات فاجلس وارثہ من یقرا القرآن لاباس بہ اخذ بعض المشایخ ولا باس بزیارتھا بشرط ان یطاھا وکرہ الصاق اللوح والکتابۃعلیھا ولا یبنی علیہ بیت ولا یجصص ولا یطین بالالون ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع والاعیاد ونقل الطعام الی القبر فی المواسم واتخاذ الدعوۃ بقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقراءۃ سورۃا لانعام او الاخلاص فالحاصل ان اتخاذ الطعام عند القرآن لاجل الاکل یکرہ۔

رد المحتار: (56/6)
فمن جملة كلامه: قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لايستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لايجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر! ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان، بل جعلوا القرآن العظيم مكسباً ووسيلةً إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون۔

الاعتصام للشاطبي: (53/1، ط: دار ابن عفان، السعودية)
ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.

و فيه أيضا: (389/1، ط: دار ابن عفان، السعودية)
إِذَا ثَبَتَ هَذَا؛ فَالدُّخُولُ فِي عَمَلٍ عَلَى نِيَّةِ الِالْتِزَامِ لَهُ، إِذَا ثَبَتَ هَذَا، فَالدُّخُولُ فِي عَمَلٍ عَلَى نِيَّةِ الِالْتِزَامِ لَهُ إِنْ كَانَ فِي الْمُعْتَادِ، بِحَيْثُ إِذَا دَاوَمَ عَلَيْهِ؛ أَوْرَثَ مَلَلًا، يَنْبَغِي أَنْ يُعْتَقَدَ أَنَّ هَذَا الِالْتِزَامَ مَكْرُوهٌ ابْتِدَاءً، إِذْ هُوَ مُؤَدٍّ إِلَى أُمُورِ جَمِيعُهَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ:
أَحَدُهَا: أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَهْدَى فِي هَذَا الدِّينِ التَّسْهِيلَ وَالتَّيْسِيرَ، وَهَذَا الْمُلْتَزِمَ يُشْبِهُ مَنْ لَمْ يَقْبَلْ هَدِيَّتَهُ، وَذَلِكَ يُضَاهِي رَدَّهَا عَلَى مُهْدِيهَا، وَهُوَ غَيْرُ لَائِقٍ بِالْمَمْلُوكِ مَعَ سَيِّدِهِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ بِالْعَبْدِ مَعَ رَبِّهِ؟ ۔۔۔۔۔وَالْخَامِسُ): الْخَوْفُ مِنَ الدُّخُولِ تَحْتَ الْغُلُوِّ فِي الدِّينِ؛ فَإِنَّ الْغُلُوَّ هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي الْأَمْرِ، وَمُجَاوَزَةُ الْحَدِّ فِيهِ إِلَى حَيِّزِ الْإِسْرَافِ

و فيه أيضا: (391/1، ط: دار ابن عفان، السعودية)
[فَصْلٌ مِنَ الْبِدَعِ الْإِضَافِيَّةِ إِخْرَاجُ الْعِبَادَةِ عَنْ حَدِّهَا الشَّرْعِيِّ]
وَمِنَ الْبِدَعِ الْإِضَافِيَّةِ الَّتِي تَقْرُبُ مِنَ الْحَقِيقِيَّةِ: أَنْ يَكُونَ أَصْلُ الْعِبَادَةِمَشْرُوعًا؛ إِلَّا أَنَّهَا تُخْرَجُ عَنْ أَصْلِ شَرْعِيَّتِهَا بِغَيْرِ دَلِيلٍ تَوَهُّمًا أَنَّهَا بَاقِيَةٌ عَلَى أَصْلِهَا تَحْتَ مُقْتَضَى الدَّلِيلِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يُقَيَّدَ إِطْلَاقُهَا بِالرَّأْيِ، أَوْ يُطْلَقَ تَقْيِيدُهَا، وَبِالْجُمْلَةِ؛ فَتَخْرُجُ عَنْ حَدِّهَا الَّذِي حُدَّ لَهَا.۔۔۔۔ وَمِنْ ذَلِكَ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ بِهَيْئَةِ الِاجْتِمَاعِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَسْجِدِ لِلدُّعَاءِ تَشَبُّهًا بِأَهْلِ عَرَفَةَ.

نفع المفتی و السائل: (ص: 134)
ان ختم القرآن بالجماعة جہرا ویسمی بالفارسیۃ سیپارہ خواندن مکروہ۔


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 3413 Oct 07, 2020
ijtimai taur par quran khuwani ka hukum, The ruling / order of collective recitation of the Qur'an

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.