resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع لینے کا حکم

(45197-No)

سوال: مجھے میرے شوہر نے شادی کے کچھ عرصے کے بعد ہی طرح طرح پریشان کرنا شروع کر دیا، کبھی مطالبہ کرتا کہ اپنے والدین سے رقم منگوا کر دو، کبھی مارتا پیٹتا اور کبھی مجھے اپنے میکے چھوڑ کر چلا جاتا۔
میرے گھر والوں نے اس سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کبھی بات کرنے پر آمادہ نہ ہوا اور اپنا رویہ بھی ٹھیک نہیں کیا، تنگ آکر میرے گھر والوں نے اور میں نے اپنے شوہر کے خلاف خلع کا کیس دائر کیا، تقریبا 11 مہینوں تک اس کو کورٹ نے نوٹس کے ذریعے بلایا، لیکن یہ شوہر ایک مرتبہ کوٹ کے سامنے پیش ہوا اور اپنے بیان میں یہ کہا کہ میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں، لیکن اس بیان کے بعد اور اس سے پہلے شوہر دوبارہ کبھی کوٹ میں نہیں آیا اور نہ ہی مجھ سے رابطہ کرتا ہے، جبکہ میں نے کیس کرنے سے پہلے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، میرا شوہر آوارہ عورتوں کے ساتھ ویڈیو بنا کر میرے پاس بھیجتا ہے، لیکن مجھے رکھنے یا صلح کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، آخر میں کورٹ نے ہمارے درمیان خلع کا فیصلہ سنا دیا اور خلع کی ڈگری جولائی کے آخر میں جاری کرنے کا کہا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں خلع یا طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟
میں فیصلے والے دن سے عدت پوری کر کے کسی اور جگہ شادی کر سکتی ہوں یا نہیں؟
اور اگر طلاق یا خلع نہیں ہوا تو پھر اس قسم کے شوہر سے جان چھڑوانے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ تاکہ میں دوسرا نکاح کر کے پر سکون زندگی گزار سکوں، جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ خلع دینے کا اختیار شوہر کے پاس ہے، شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کی جاسکتی ہے، البتہ بعض انتہائی مجبوریوں (مثلاً: شوہر کا بیوی پر ظلم و ستم کرنا، باوجود وسعت کے نان نفقہ نہ دینا، یا شوہر کا نامرد ہونا وغیرہ)کی صورت میں عدالت شرعی طریقہ کار کے مطابق میاں بیوی میں فسخِ نکاح کرسکتی ہے۔
شرعی طریقہ سے مراد یہ ہے کہ عورت مذکورہ اسباب میں سے کسی سبب کی بنیاد پر فسخِ نکاح کے لیے درخواست دے اور پھر اپنے دعویٰ کو عادل گواہوں کے بیانات سے ثابت کردے یا اگر گواہ نہ ہوں تو شوہر قسم کھانے سے انکار کردے، اِس طرح مذکورہ بالا اسباب میں سے کوئی سبب ثابت ہونے کے بعد عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر میاں بیوی کے درمیان نکاح کو ختم کرسکتی ہے۔
سوال میں پوچھ گئی صورت میں نہ تو آپ کے شوہر نے خلع دینے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے، اور نہ ہی آپ نے فسخ نکاح کے اسباب میں سے کسی سبب کو شرعی طریقہ کار کے مطابق عدالت میں ثابت کیا ہے، اس لیے آپ کا خلع شرعاً معتبر نہیں ہے، آپ بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہیں، البتہ اگر آپ کا نباہ اپنے مذکورہ شوہر کے ساتھ ممکن نہیں ہے اور آپ ان سے علیحدگی چاہتی ہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ آپ کسی طرح شوہر کو طلاق دینے پر راضی کرلیں یا اس کے ساتھ مالی معاملات طے کرکے اس سے خلع لے لیں یا جواب میں ذکر کیے گئے اسباب میں سے کسی سبب کے پائے جانے کی صورت میں عدالت سے نکاح فسخ کروالیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)*
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول".

*الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (7015/9، ط: دار الفکر)*
وقد اعتبر الحنفية ركن الخلع هو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول

*تکملة فتح الملهم: (کتاب الطلاق قبیل باب تحریم طلاق الحائض، 134/1، ط: مکتبة دار العلوم کراتشي)*
قد قصرت الشريعة الإسلامية حق الطلاق على الزوج، ولم يجعله بيد المرأة في الظروف العادية؛ لأن المرأة من طبيعتها الاستعجال في الأمور، فلو كان خيار الطلاق بيدها لكانت تقع الفرقة لأسباب بسيطة، وأغراض تافهة، ولكنها لم تسدد باب الفرقة من جهة المرأة بالكلية، وإنما أباحت لها ذلك في ظروف خاصة، فيمكن لها مثلاً: أن تعقد النكاح بشرط تفويض الطلاق إليها، ولو لم تشترط ذلك في العقد فلها أن تختلع من زوجها برضاه، وإن لم يكن ذلك فلها أن تطلب من القاضي فسخ النكاح إذا كان زوجها عنيناً، أو مجنوناً، أو متعنتاً، أو مفقوداً.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce