سوال:
مفتی صاحب ! کیا قربانی کا سارا گوشت قربانی کرنے والا رکھ سکتا ہے یا تین حصے کر کے بانٹنا ضروری ہے؟
جواب: قربانی کے گوشت میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لئے رکھ لے، دوسرا حصہ اپنے اقرباء اور رشتہ داروں میں تقسیم کردے، اور تیسرا حصہ فقراء اور محتاجوں کو دیدے، البتہ یہ تقسیم واجب اور ضروری نہیں ہے، اگر قربانی کرنے والے کے اہل وعیال زیادہ ہوں، اور گوشت کی اس کو خود ضرورت ہو، تو پورا گوشت گھر میں بھی استعمال کر سکتا ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (474/9)
والأفضل أن یتصدق بالثلث ویتخذ الثلث ضیافۃ لأقربائہ وأصدقائہ، ویدخر الثلث، ویستحب أن یأکل منہا، ولو حبس الکل لنفسہ جاز؛ لأن القربۃ في الإراقۃ والتصدق باللحم تطوع۔
الفتاوی الهندية: (300/5، ط: دار الفکر)
ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية.
ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی