سوال:
حضرت! قربانی کب سے کب تک کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے شریعت نے کتنے دن مقرر فرمائے ہیں؟
جواب: ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام (آفتاب غروب ہونے سے پہلے) تک قربانی کا وقت ہے، ان دنوں میں جب چاہے قربانی کر سکتا ہے،البتہ ان میں سے پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے، اس کے بعددوسرے اور پھر تیسرے دن۔
شہر اور بڑے قصبوں میں جہاں عید کی نماز پڑھی جاتی ہو، وہاں قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کو عید کی نماز کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے، جبکہ گاؤں دیہات وغیرہ میں جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو، وہاں10 ذی الحجہ کو فجر کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیة: (کتاب الاضحیة، الباب الثالث فی وقت الاضحیة، 295/5، ط: دار الفکر)
وقت الاضحیة ثلاثة ایام، العاشر والحادی عشر،والثانی عشر، اولھا افضل واخرھا ادونھا، ویجوز فی نھارھا ولیلھا.... والوقت المستحب للتضحیة.... وفی حق أہل المصر بعد الخطبة کذا فی الظہیریة۔
الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الأضحية، 318/6، ط: دار الفکر)
"(وأول وقتها) (بعد الصلاة إن ذبح في مصر) أي بعد أسبق صلاة عيد، ولو قبل الخطبة لكن بعدها أحب وبعد مضي وقتها لو لم يصلوا لعذر، ويجوز في الغد وبعده قبل الصلاة لأن الصلاة في الغد تقع قضاء لا أداء زيلعي وغيره (وبعد طلوع فجر يوم النحر إن ذبح في غيره).
(قوله: إن ذبح في غيره) أي غير المصر شامل لأهل البوادي، وقد قال قاضي خان: فأما أهل السواد والقرى والرباطات عندنا يجوز لهم التضحية بعد طلوع الفجر، وأما أهل البوادي لايضحون إلا بعد صلاة أقرب الأئمة إليهم اه وعزاه القهستاني إلى النظم وغيره وذكر في الشرنبلالية أنه مخالف لما في التبيين ولإطلاق شيخ الإسلام".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی