عنوان: معتکف کا پانی گرم کرنا(104999-No)

سوال: کیا اعتکاف کے دوران معتکف غسل کے لئے مسجد سے نکل سکتا ہے؟ اور اگر سردی بہت زیادہ ہو، تو کیا معتکف کے لیے مسجد کے احاطے میں چولھے پر غسل کا پانی گرم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: معتکف غسلِ جنابت کے لیے نکل سکتا ہے، غسلِ جنابت کے علاوہ دوسرے غسل کے لیے نہیں نکل سکتا، اگر سردی کے موسم میں پانی ٹھنڈا ہے، استعمال سے نقصان ہوتا ہے، گرم پانی کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں ہے، تو معتکف خود مسجد کے احاطہ میں چولہا جلا کر یا جلے ہوئے چولہے میں پانی گرم کر کے غسل کر سکتا ہے، یہ شرعی ضرورت ہے، لہذا اعتکاف میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر مع الرد:

وحرم عليه ) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروج لأنه منه له لا مبطل كما مر ( الخروج إلا لحاجة الإنسان ) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر۔
و فی الشامیۃ تحتہ قوله ( وغسل ) عده من الطبيعية تبعا للاختيار و النهر وغيرهما وهو موافق لما علمته من تفسيرها وعن هذا اعترض بعض الشراح تفسير الكنز لها بالبول والغائط بأن الأولى تفسيرها بالطهارة ومقدماتها ليدخل الاستنجاء والوضوء والغسل لمشاركتها لهما في الاحتياج وعدم الجواز في المسجد اھ فافهم۔

(الدر مع الرد، 445/2، ط سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 145

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com