عنوان: کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کا حکم(5021-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر رشتہ دار سے لڑائی کی وجہ سے ناراضگی ہو جانے پر کوئی شخص یہ کہے کہ آئندہ اس سے ہدیہ لینا مجھ پر حرام ہوگا، پھر دونوں میں صلح ہو جانے کے بعد اس رشتہ دار سے ہدیہ قبول کرنے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا ’’قسم‘‘ کے حکم میں ہے، لہذا ان الفاظ "اب میں اس سے کبھی کوئی تحفہ نہیں لوں گا، اگر لیا تو مجھ پر حرام ہوگا" سے قسم منعقد ہوگئی، پھر بعد میں اگر اس سے کوئی تحفہ وصول کیا، تو قسم ٹوٹ جائے گی، اور قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔
قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا دیدیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں ہے، تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایۃ: 89)
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَo

الھندیۃ: (52/2، ط: دار الفکر)
وَمُنْعَقِدَةٌ، وَهُوَ أَنْ يَحْلِفَ عَلَى أَمْرٍ فِي الْمُسْتَقْبَلِ أَنْ يَفْعَلَهُ، أَوْ لَا يَفْعَلَهُ، وَحُكْمُهَا لُزُومُ الْكَفَّارَةِ عِنْدَ الْحِنْثِ كَذَا فِي الْكَافِي.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1003
kisi halal cheez ko apne / apney oper haraam karne / karney ka hokom / hokum, Ruling / order to make a lawful / halal thing haram upon oneself

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.