سوال:
ایک شخص نے دوسرے شخص کواپنی زمین باغ کےلئےاجارہ پر دی لیکن عقداس طرح کیا کہ باغ میں جتنےدرخت ہیں صرف ان درختوں کے جڑوں کےزمین یعنی ہردرخت کی جڑ میں تقریبا 2فٹ مربع زمین مستاجرکواجارہ پر ہوگی باقی درمیان میں خالی زمین اجارہ پر نہیں ہوگی بلکہ اس کومالک زمین استعمال کرےگا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ معاملہ شرعا صحیح ہے یانہیں؟
یہ مسئلہ ہمارےسوات میں کافی شدت سےزیربحث ہے لہذا اگردارالافتاءسے رہنمائی مل جائے تو خلجان دور ہوگا اللہ تعالی آپ صاحبان کو جزائے خیرعطاء فرمائے۔ آمین
جواب: پوچھی گئی صورت میں درختوں کی جڑوں والی زمین دوسرے شخص کو کرایہ پر دینا درست نہیں ہے، کیونکہ یہ دراصل درختوں کو کرایہ پر دینے کے لیے ایک حیلہ اختیار کرنے کی صورت بن رہی ہے، جبکہ درختوں کو کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا اس مقصد کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اگر متبادل کے طور پر یہ صورت اختیار کی جائے کہ پہلے درخت فریقِ ثانی کو مساقات (بٹائی) کے طور پر اس طرح سے دیے جائیں کہ پیدا ہونے والے پھلوں میں سے کچھ فیصدی حصہ مالک کا ہوگا اور باقی پھل فریقِ ثانی کو ملیں گے۔ اس کے بعد مستقل طور پر فریقِ ثانی کو پوری زمین مثلی اجرت پر دی جائے تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے، بشرطیکہ زمین قابلِ زراعت ہو، اور یہ دونوں معاملات (درختوں کی بٹائی اور زمین کے اجارے) الگ الگ کئے جائیں، ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (6/8، ط: دار الفكر)
وإنما لا يصح استئجار الأشجار أيضا لما مر أنها تمليك منفعة، فلو وقعت على استهلاك العين قصدا فهي باطلة.
قال الرملي: وسيأتي في إجارة الظئر أن عقد الإجارة على استهلاك الأعيان مقصود كمن استأجر بقرة ليشرب لبنها لا يصح، وكذا لو استأجر بستانا ليأكل ثمره.....
وفي فتاوى الحانوتي: التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة، أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة كما صرح به في البزازية.
امداد الفتاویٰ: (390/3، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
فتاویٰ عثمانی: (379/3، ط: مکتبة معارف القران کراتشی)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی