سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔ میرا ایک کاروباری معاملہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
میں پاکستان میں رہتا ہوں اور Shopify کے ذریعے امریکہ کے لیے ایک آن لائن اسٹور بنانا چاہتا ہوں تاکہ امریکہ کے صارفین کو مصنوعات پیش کی جا سکیں۔ میرا مقصد صرف حلال طریقے سے کاروبار کرنا ہے، اس لیے پہلے سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
میرا کاروباری طریقۂ کار درج ذیل ہوگا:
میرے پاس اپنا اسٹاک یا گودام نہیں ہوگا، میں سپلائر یا برانڈ کا نہیں بلکہ کسٹمرز کا بطور کمیشن ایجنٹ (وکیل) کام کرنا چاہتا ہوں، میں شروع ہی میں ہر کسٹمر کو واضح طور پر بتاؤں گا کہ میں مالکِ سامان نہیں بلکہ کسٹمرز کا کمیشن ایجنٹ ہوں، میں اپنے Shopify اسٹور پر مختلف ویب سائٹس یا سپلائرز کی مصنوعات کی تصاویر، تفصیلات اور معلومات دکھاؤں گا تاکہ کسٹمر اپنی پسند کی پروڈکٹ منتخب کر سکے، جب کوئی کسٹمر آرڈر دے گا اور آن لائن ادائیگی کرے گا، تو میں کسٹمر کی طرف سے فراہم کردہ نام، ڈلیوری ایڈریس اور دیگر ضروری معلومات متعلقہ سپلائر کو بھیج دوں گا، اور سپلائر وہی پروڈکٹ براہِ راست کسٹمر کے پتے پر بھیج دے گا۔ اس دوران سامان میرے قبضے یا گودام میں نہیں آئے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی پروڈکٹ کی اصل قیمت 1000 روپے ہو تو میں اپنا کمیشن شامل کرکے 1200 روپے وصول کرنا چاہوں گا۔
میری آمدنی صرف کمیشن یا سروس فیس ہوگی، اور میرا ارادہ ہر قسم کے دھوکے، جھوٹ، خیانت اور ناجائز معاملات سے مکمل اجتناب کرنا ہے، براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:
کیا پاکستان میں رہتے ہوئے امریکہ کے لیے Shopify اسٹور بنا کر کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے؟
اگر امریکہ میں کاروبار کرنے کے لیے LLC (Limited Liability Company) بنانا یا امریکی قوانین اور ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہو، تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا کسٹمرز کا بطور کمیشن ایجنٹ (وکیل) کام کرنا اور اس کے بدلے کمیشن یا سروس فیس وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا مختلف ویب سائٹس یا سپلائرز کی مصنوعات کی تصاویر، تفصیلات اور معلومات ان کی اجازت کے بغیر اپنے Shopify اسٹور پر استعمال کرنا جائز ہے، یا اس کے لیے پہلے اجازت لینا ضروری ہے؟
اگر کسی پروڈکٹ کی اصل قیمت 1000 روپے ہو، تو کیا میں اپنا کمیشن شامل کرکے 1200 روپے وصول کر سکتا ہوں، یا اصل قیمت اور کمیشن الگ الگ واضح کرنا ضروری ہے؟
کیا بطور کسٹمرز کے کمیشن ایجنٹ کسٹمر سے آرڈر کے وقت مکمل رقم وصول کرنا، پھر سپلائر کو اصل قیمت ادا کرنا اور باقی رقم بطور کمیشن رکھ لینا شرعاً جائز ہے؟
اگر میں شروع ہی میں کسٹمر کو واضح کر دوں کہ میں کسٹمرز کا کمیشن ایجنٹ ہوں، مالکِ سامان نہیں تو کیا یہ طریقۂ کار شرعاً درست ہوگا؟
کیا اس پورے کاروباری طریقۂ کار میں کوئی اور شرعی قباحت یا ایسی بات ہے جس سے مجھے بچنا چاہیے تاکہ میری کمائی مکمل طور پر حلال ہو؟
جزاکم اللہ خیراً، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے، آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے، اور ہمیں حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
جواب: پاکستان میں رہتے ہوئے امریکہ کے لیے Shopify اسٹور قائم کرنا قانونی ضرورت کے تحت LLC بنانا اور جائز امریکی قوانین اور ضوابط کی پابندی کرنا شرعاً جائز ہے۔
واضح رہے کہ ایسے موقع پر اپنی اصلی شناخت (پاکستانی) کے طور پر کام کیا جاسکتا ہے، لیکن اپنے آپ کو امریکی ظاہر کرنا دھوکا دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا، اس سے اجتناب لازم ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کا کسٹمرز (Costumers) کے لئے بطور ایجنٹ (وکیل) کام کرنا اور اس کے بدلے سروس فیس وصول کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ اصل قیمت اور کمیشن واضح ہو (مثلاً سامان کی اصل قیمت 1000 روپے اور کمیشن 200 روپے ہے، اس کے بعد 1200 روپے وصول کیے جاسکتے ہیں)، نیز گاہک کے سامنے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ آپ سامان کے مالک نہیں، بلکہ اس کی جانب سے خریداری کے وکیل ہیں، اسی طرح مکمل رقم پیشگی وصول کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ آرڈر پورا نہ ہونے کی صورت میں گاہک کی رقم واپس کردی جائے۔
دوسری ویب سائٹس کی تصاویر، تفصیلات، لوگو(Logo) یا مواد کے بارے میں اگر ان کی طرف سے عام استعمال کی اجازت ہو تو علیحدہ اجازت لینا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر ان کی طرف سے ممانعت ہو تو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ہوگا۔
نیز حرام، نقلی مصنوعات، جھوٹ، دھوکہ دہی اور جھوٹے اشتہارات سے اجتناب کیا جائے۔
ان شرائط کے ساتھ مذکورہ کاروبار شرعاً جائز اور اس کی آمدنی بھی حلال ہوگی، بشرطیکہ کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجلة الأحكام العدلية: (ص: 285، المادة: 1467، ط: نور محمد، كراتشي)
إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة
الدر المختار: (166/4، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
باب المستأمن أي الطالب للامان (هو من يدخل دار غيره بأمان) مسلما كان أو حربيا (دخل مسلم دار الحرب بأمان حرم تعرضه لشئ) من دم ومال وفرج (منهم) إذ المسلمون عند شروطهم
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (98/1، المادة: 97، ط: دار الحیل)
لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده»
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی