سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، گزارش یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کی وراثت میں ایک قطعہ زمین تھی، جو کہ ہم چھ سگے بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ بھائی مومن بھائی عبدالرحیم بھائی محمدالیاس بھائی فضل منان بھائی عبدالواحد اور بھائی صہیب تقریباً بارہ سال سے پہلے ہم سب بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اسی زمین پر "مدینہ ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج" قائم کیا۔ شروع کا معاہدہ یہ تھا:اسکول کی زمین، عمارت اور کاروبار میں ہم چھ بھائی شریک ہیں اور نفع و نقصان بھی برابر برداشت کریں گے، گزشتہ بارہ سال سے اس بنیاد پر اسکول چل رہا ہے۔
موجودہ مسئلہ:ان چھ بھائیوں میں چار بھائی بطور استاد پڑھاتے ہیں، دو بھائی باہر دہاڑی مزدوری کرتے ہیں، اب چار کہتے ہیں کہ دو بھائیوں کو شراکت سے نکال کر زمین اور عمارت کی قیمت لگا کر دے دی جائے، جبکہ اس بات پر دو بھائی راضی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے شروع سے نفع و نقصان برابر برداشت کرا ہے اور اب بھی نفع نقصان کیلئے ہم تیار ہیں، اس لئے ہم شراکت سے نکالنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔مفتی صاحب! ہم آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔
1) کیا بارہ سال تک جاری رہنے والی شراکت کو صرف اس وجہ سے ختم کیا جا سکتا ہے کہ دو بھائی اس وقت اسکول میں ڈائریکٹ کام نہیں کر رہے؟
2) کیا مشترکہ زمین اور عمارت میں سے کسی ایک فریق کو اس کی رضا مندی کے بغیر قیمت دیکر نکالا جا سکتا ہے؟ شرعاً اس مسئلے کا بہترین حل کیا ہے، تاکہ اتفاق و اتحاد بھی قائم رہے۔
چار (4) بھائیوں کو محنت کا حق بھی ادا ہو اور دو بھائیوں کی شراکت بھی قائم رہے، اور اسکول بھی ان چھ بھائیوں کے ساتھ چلتا رہے۔
مفتی صاحب برائے کرم! قرآن و سنت کے روشنی میں ہمیں شرعی رہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین ان اللہ تعالیٰ ہمارا اتفاق و اتحاد برقرار نصیب فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں زمین اور عمارت سب چھ بھائیوں کی مشترکہ وراثتی ملکیت ہے، لہٰذا کسی ایک بھائی کو اس کی رضامندی کے بغیر قیمت دے کر شراکت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
شرکت کا شرعی اصول یہ ہے کہ اگر شرکاء میں سے کچھ کام کریں اور کچھ نہ کریں تو محنت کرنے والے کے لیے دو طریقے جائز ہیں:
پہلا طریقہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کا نفع کا حصہ بڑھا دیا جائے، یعنی زمین، عمارت اور اسکول چھ بھائیوں کی مشترکہ ملکیت رہے، اسکول کے منافع میں سے جو چار بھائی پڑھا رہے ہیں، ان کا حصہ زیادہ رکھا جائے اور نقصان سرمایہ کے تناسب سے ہی برابر تقسیم ہو۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ محنت کرنے والوں کے لیے الگ سے اجرت طے کر لی جائے، یعنی زمین، عمارت اور اسکول چھ بھائیوں کی مشترکہ ملکیت رہے اور نفع و نقصان بھی چھ حصوں میں برابر تقسیم ہو، البتہ جو چار بھائی پڑھا رہے ہیں، ان کو بازار کے حساب سے ماہانہ تنخواہ مقرر کر دی جائے جو کہ اسکول کے اخراجات میں شمار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*(الفتاوی الشامي، کتاب الشرکة، ج:4 ص:300 ط: سعید)*
" (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الإمتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة."
*الدر المختار مع رد المحتار: ج:1 ص:301 ط: رشیدیة*
"و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه."
*الدر المختار مع رد المحتار:(312/4، ط۔ دارالفکر)*
(قولہ: ومع التفاضل فی المال دون الربح) أی بأن یکون لأحدہما ألف وللآخر ألفان مثلا واشترطا التساوی فی الربح، وقولہ وعکسہ: أی بأن یتساوی المالان ویتفاضلا فی الربح، لکن ہذا مقید بأن یشترط الأکثر للعامل منہما أو لأکثرہا عملا، أما لو شرطاہ للقاعد أو لأقلہما عملا فلا یجوز کما فی البحر عن الزیلعی والکمال
*و فیه ایضا: (باب الإجارۃ الفاسدۃ: 47/6، ط: سعید)*
(و) تفسد أيضا (بالشيوع)، بأن يؤجر نصيبا من داره، أو نصيبه من دار مشتركة من غير شريكه، أو من أحد شريكيه. أنفع الوسائل وعمادية من الفصل الثلاثين. . .(إلا إذا آجر) كل نصيبه أو بعضه (من شريكه) فيجوز، وجوازه بكل حال، وعليه الفتوى زيلعي وبحر معزيا للمغني.
قوله:( فيجوز): أي في أظهر الروايتين خانية. قوله:( وجوزاه بكل حال): أي سواء كان من شريكه، أو لا فيما يحتمل القسمة، أو لا ح، لكن بشرط بيان نصيبه، وإن لم يبين لا يجوز في الصحيح، زيلعي.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی