سوال:
السلام علیکم! میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں نے کہیں سنا ہے کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں زمین ہو تو وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے یا کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اپنی زمین فروخت نہیں کرسکتا، جب تک کہ اس کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے اور کسی سے لیا ہوا قرض واپس کرنے کے لیے کافی رقم یا آمدنی کا ذریعہ موجود نہ ہو۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس پلاٹ کی فائل ہو اور وہ فائل صرف سرمایہ کاری کی غرض سے ہو، یعنی اس کے بدلے میں کوئی مخصوص یا متعین زمین موجود نہ ہو تو کیا اس فائل کی رقم کو کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں جو یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ "اگر کسی شخص کی ملکیت میں زمین ہو تو وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے یا کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اپنی زمین فروخت نہیں کر سکتا" اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، بلکہ کوئی بھی شخص اپنی دیگر مملوکہ اشیاء کی طرح اپنی زمین بھی فروخت کر سکتا ہے، اگرچہ اس کے پاس زمین کے علاوہ اور اشیاء بھی موجود ہوں۔
پلاٹ کی فائل کی خرید و فروخت بعض صورتوں میں جائز اور بعض صورتوں میں ناجائز ہوتی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ فائل کی خرید وفروخت در حقیقت پلاٹ کی خرید و فروخت ہوتی ہے، کیونکہ فائل پلاٹ ہی کی نمائندگی کرتی ہے، لہذا اگر فروخت کرتے وقت اس پلاٹ کے بارے میں طے ہو کہ کس جگہ واقع ہے، اور کتنے گز/ مرلے کا ہے تو پھر اس کی فائل کو آگے بیچنا جائز ہے، لیکن اگر صرف فائل ہے، جس کے پیچھے پلاٹ نہیں یا پلاٹ تو ہے لیکن ایک بڑی سوسائٹی میں ہے اور اس کی خاص جگہ (Location) متعین نہیں ہے کہ اس کی حدود اربعہ کیا ہیں، پلاٹ کونے پر ہے یا سامنے ہے، مین روڈ کے قریب ہے یا دور ہے تو چونکہ پلاٹ کے ان منافع کے مختلف ہونے کی وجہ سے قیمت میں کمی بیشی ہوتی ہے، جو کہ نزاع کا باعث بن سکتی ہے، اس لئے ایسا معاملہ شرعاً درست نہیں ہے، نیز اس بات کا بھی احتمال ہے کہ سوسائٹی والوں نے پلاٹ کی تعداد سے زائد فائلیں فروخت کی ہوں تو یہ غیر مملوک کی خرید و فروخت ہوگی جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*البحر الرائق: (315/5، ط: دار الکتاب الاسلامی)*
(قوله و فسد بیع عشرۃ اذرع من دار لا اسھم) و ھذا عند ابی حنیفة و قالا ھو جائز کما لو باع عشرۃ اسھم من دار ۔۔۔۔ لانھا جھالة بایدیھما ازالتھا ۔۔۔ و الحمام و الارض کالدار کما فی البدائع.
*الدر المختار مع رد المحتار: (545/4، ط: دار الفکر)*
قوله: (و صححاہ الخ) قلتُ: و وجه کون الموضع مجهولا انه لم یبین انه من مقدم الدار او من مؤخرها و جوانبها تتفاوت قیمه فکان المعقود علیه مجھولا جھالة مفضیة الی النزاع فیفسد کبیع بیت من بیوت الدار
*فقه البيوع: (376/1، ط: مکتبة معارف القرآن)*
وقد تباع قطعة من الارض مقدرة بالخطوات او الامتار، ولكن يترك تعيينها للمستقبل. وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة ثم تبيع قطعاتها العامة الناس تقدر بالخطوات او الامتار فمثلا كل قطعة منها بقدر خمس متر ولكن لا يتعين محل تلك الخمس مائة عند الشراء وانما يتعين حسب التصميم الذى تعمله الشركة فيما بعد فالسوال هل يصح هذا البيع على انه بيع حصة مشاعة من تلك الارض الواسعة؟ وهل يجوز لمن يشتريها ان يبيعها الى اخر؟ وتخرج هذه المسئلة على ماذكره الفقهاء الحنفية من ان من باع عشرة اذرع غير معينة من دار فان هذا البيع فاسد عند الامام أبي حنيفة رحمه الله تعالى الجهالة القدر، فان جوانب الدار مختلفة الجودة، فتقع المنازعة في تعيين المبيع ۔۔۔ وعلى هذا، فان بيع قطعة غير معينة من جملة القطعات لايجوز عند الامام ابي حنيفة رحمه الله تعالي ويجوز عند صاحبيه. والظاهر انه ان كانت جهالة التعيين تفضي الى المنازعة، فالاخذ بقول الامام ابي حنيفة اولى وان لم تكن مفضية الى المنازعة، فقول الصاحبين اولى بالاخذ.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، كراچی