سوال:
محترم مفتی صاحب، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے، ہمیں ایک اہم شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور میں بکثرت پیش آ رہا ہے۔ مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے ٹیتھر (USDT) کے طریقہ کار کی وضاحت پیش کی جاتی ہے، اس کے بعد سوالات عرض کیے جائیں گے۔
ٹیتھر (USDT) کا طریقہ کار اور پس منظر
ٹیتھر (Tether) ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے عرفِ عام میں "اسٹیبل کوائن" (Stablecoin) کہا جاتا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات حسبِ ذیل ہیں:
۱) قدر کی پشت پناہی:
ہر ایک USDT کی قدر ایک امریکی ڈالر (USD) کے برابر ہوتی ہے اور اسے جاری کرنے والی کمپنی "Tether Limited" کا دعویٰ ہے کہ ہر ایک USDT کے پیچھے ایک حقیقی ڈالر یا اس کے مساوی اثاثہ (جیسے امریکی ٹریژری بانڈز، نقد رقم، وغیرہ) اپنے پاس محفوظ رکھتی ہے، یعنی یہ بٹ کوائن جیسی غیر مستحکم کرنسی نہیں، بلکہ اس کی قدر ہمیشہ تقریباً ایک ڈالر کے برابر رہتی ہے۔
۲) بلاک چین پر منتقلی:
USDT مختلف بلاک چین نیٹ ورکس (جیسے Ethereum، Tron، Solana وغیرہ) پر چلتا ہے، اس کی منتقلی بینک کے بغیر براہِ راست ایک ڈیجیٹل والیٹ سے دوسرے والیٹ میں ہوتی ہے، منتقلی کا ریکارڈ عوامی بلاک چین پر محفوظ رہتا ہے جسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔
۳) کوئی مرکزی بینک نہیں:
اسے کوئی مرکزی حکومت یا مرکزی بینک جاری نہیں کرتا، البتہ Tether Limited ایک نجی کمپنی ہے جو اس کا اجراء کرتی ہے اور اس کے ذخائر کی ذمہ دار ہے۔
۴) استعمال کے طریقے:
USDT کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:
اشیاء و خدمات کی خریداری اور ادائیگی، تنخواہ، اجرت، یا فری لانس کام کا معاوضہ وصول کرنا، ہدیہ یا تحفہ بھیجنا اور وصول کرنا، ملک سے باہر ترسیلاتِ زر (Remittances)، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز پر لین دین۔
۵) ڈالر سے فرق:
اگرچہ USDT کی قدر ڈالر کے برابر ہے، لیکن یہ خود ڈالر نہیں ہے، یہ ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے جس کے بدلے ڈالر ملنے کا وعدہ ہے، اسے کسی بھی کریپٹو ایکسچینج پر حقیقی ڈالر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
شرعی سوالات
سوال نمبر ۱ : کیا USDT کو بطورِ ذریعہ ادائیگی استعمال کرتے ہوئے کوئی چیز خریدنا یا کسی کو رقم ادا کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اسے "ثمن" (قابلِ قبول معاوضہ) کا درجہ دیا جا سکتا ہے؟
سوال نمبر ۲: اگر کوئی شخص USDT کے ذریعے کوئی جائز کاروباری چیز خریدے ، مثلاً: سافٹ ویئر، ڈیجیٹل پروڈکٹ، یا کوئی سروس اور پھر اس سے آمدن حاصل کرے،تو کیا وہ آمدن حلال ہوگی؟ کیا ادائیگی کا ذریعہ (یعنی USDT) اس کمائی کی حلت پر اثر ڈالتا ہے؟
سوال نمبر ۳ :اگر کوئی شخص USDT کی شکل میں ہدیہ (Gift) وصول کرے تو کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ عرفاً "ہدیہ" کے زمرے میں آتا ہے؟
سوال نمبر ۴ : اگر کوئی شخص فری لانسنگ، ڈیجیٹل خدمات یا کسی اور حلال کام کے بدلے اپنی اجرت USDT میں وصول کرے تو کیا یہ اجرت شرعاً درست ہے؟ جبکہ یہ اجرت طے کرتے وقت ڈالر میں طے کی گئی ہو اور ادائیگی USDT میں کی گئی ہو؟
خلاصہ:
گزارش ہے کہ مندرجہ بالا چاروں صورتوں میں شرعی حکم واضح فرمائیں اور اگر USDT کے استعمال میں کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کی نشاندہی بھی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں ذکر کی گئی تفصیلات کے مطابق USDT ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے، جس کی مالیت کو ایک امریکی ڈالر سے منسلک کیا گیا ہے۔ محض ڈالر سے منسلک ہونے کی وجہ سے اسے عین ڈالر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی حقیقت مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکی ہے کہ اس کی مالی حیثیت عرفاً اور قانونی طور پر تسلیم کی جاچکی ہے یا نہیں، اسی طرح اس میں قمار، غرر، سٹہ بازی، دھوکا وغیرہ کا کس تک امکان ہے، جب تک یہ ساری صورتحال واضح نہ ہو تو فی الحال اس کے ذریعے خرید و فروخت اور اجرت کی ادائیگی وغیرہ جیسے معاملات کے جواز یا عدم جواز کے سلسلے میں فی الحال کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*عمدۃ القاری: (435/8)*
الغرر هو فی الاصل الخطر، و الخطر ھو الذی لا یدری أ یکون ام لا، و قال ان عرفة: الغرر ھو ما کان ظاھرہ یغر و باطنه مجهول، قال و الغرور ما راأیت لہ ظاہرا تحبہ و باطنہ مکروہ أو مجہول، و قال الأزہری: البیع الغرر ما یکون علی غیر عهدۃ و لا ثقة، و قال صاحب المشارق: بیع الغرر بیع المخاطرۃ، و ھو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله۔
*مصنف ابن ابی شیبة: (کتاب البیوع و الاقضیة، 483/4، ط: مکتبة الرشد)*
عن ابن سیرین قال: کل شيءٍ فیه قمار فهو من المیسر
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، كراچی