سوال:
میں نے ایک شخص کے ساتھ معاملہ طے کیا اور اپنی کچھ جائیداد فروخت کی، اس شخص نے تقریباً 77 فیصد رقم اقساط کی صورت میں ادا کردی، جب 77 فیصد رقم ادا ہوگئی تو اس نے مذکورہ جائیداد کا قبضہ مانگا، اس نے جائیداد کا قبضہ لے کر اسے کمپنی کے دفتر کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تعمیر و تزئین و آرائش بھی کرلی، باقی تقریباً 23 فیصد رقم ادا کرنا باقی تھی، اس سلسلے میں اس نے ایک نیا معاہدہ کیا اور دستخط کیے کہ وہ باقی رقم دو ماہ کے اندر ادا کردے گا، جس کے بعد میں جائیداد کی باقاعدہ منتقلی اس کے نام کردوں گا، لیکن طے شدہ مدت گزرے ہوئے اب آٹھ ماہ ہوچکے ہیں، وہ ٹیکس کے مسائل کی وجہ سے جائیداد کی باقاعدہ منتقلی اپنے نام نہیں کروا رہا اور اسی وجہ سے باقی رقم بھی ادا نہیں کر رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ جب بالآخر ہم اس معاملے کو حتمی طور پر طے کریں تو کیا معاہدے کی خلاف ورزی اور مقررہ وقت پر باقی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے میں اس سے بطور جرمانہ کوئی اضافی رقم طلب کرسکتا ہوں؟ کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کا کسی معقول عذر کے بغیر معاہدے کی خلاف ورزی کرنا ناجائز اور انتہائی برا عمل ہے، تاہم محض معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے جرمانے کے طور پر اس سے اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے آپ کا کوئی حقیقی مالی نقصان ہوا ہو تو صرف نقصان کی حد تک مذکورہ شخص سے تلافی کروائی جا سکتی ہے، بصورتِ دیگر اضافی رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*القرآن الکریم: (المائدۃ، الایة: 1)*
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ ۔۔۔ إلخ
*فقه البیوع: (113/1، ط: معارف القرآن)*
لا یجوز ان یحمل المتخلف عن الوعد تعویضا الا بمقدار الخسارة الفعلية التی اصیب به الطرف الآخر مثل ان یضطر البائع الی بیع المبیع باقل من سعر تکلفته.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی