سوال:
حضرت مسئلہ یہ ہے کہ میرے بہت قریبی رشتہ دار ہے جو میرے لئے نہایت قابل اعتماد تھے، انہوں نے مجھ سے ڈھائی سال پہلے نومبر 2023 میں ایک زمین کے بارے میں بات کی، انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا گروپ ایک بڑی زمین کا سودا کر رہے ہیں اور اس میں انویسٹرز کی ضرورت ہے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپ ہمیں انویسٹمنٹ دیں، ہم نے زمین عام لوگوں سے خریدی ہوئی ہے، ان لوگوں کو پیمنٹ کرنی ہے اور اگے وہ زمین ہم نے ایک مشہور ادارے سے بات کر کے ان کو تین گنا زیادہ قیمت میں بیچ بھی دی ہے، اپ نے صرف پیسے ہمیں دینے ہے، اور ہم اپ کو زیادہ سے زیادہ تین مہینوں میں اصل قیمت بمع منافع (جو ہمارا اپس میں طے ہو گیا تھا) واپس دینے کے پابند ہونگے، چونکہ وہ میرے قریبی رشتہ دار بھی ہے اور حلیہ سے دین دار بھی ہے، اس لئے میں نے بغیر لکھت پڑھت ان کو اپنے ماموں سے کچھ پیسے لے کر اور اپنی ذاتی واحد گاڑی اور اہلیہ کے کچھ زیورات ان کے حوالے کر دیے، جس کی کل ملیت اس وقت 34 ملین تھی۔ دیئے گئے وقت پر جب میں نے ان سے تقاضا کیا تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا، وہ لوگ اسلام آباد میں رہائش پزیر ہیں اور میں کراچی میں۔ اس معاملے کے حل کے لئے میں ڈھائی سال کے محتلف اوقات میں ان کے پاس کراچی سے اسلام آباد گیا اور وہاں مجھے مہینوں مہینوں رکنا پڑا، میں گھر کا واحد کفیل ہوں، میرے گھر پر صرف میری والدہ اور اہلیہ ہیں جنھوں نے اس سارے وقت میں کافی تکلیفیں اٹھائی، ماموں نے جو انویسٹمنٹ دی تھی، اس میں انہوں نے اپنے کسی دوست سے بھی پیسے لئے تھے، وہ مجھ سے ہر وقت پیسوں کی واپسی کا تقاضا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں اسلام آباد آٹھ دفعہ ان کے پاس گیا (جس کی وجہ سے میں کسی کام کاروبار کے قابل نہیں رہا) اور ہر بار مجھ سے کچھ وقت لے کر وعدہ کرتے رہے کہ اس بار اس وقت پر اپ کے پیسے مل جائیں گے، اور جب وہ وقت آتا تو میں ان کو کال اور میسج کر کر کے تھک جاتا لیکن ان کی طرف سے ہر بار وعدہ خلافی ہوتی رہی۔ میرے علاوہ انہوں نے کافی سارے لوگوں کو ان کے پیسے واپس کئے کیونکہ ان لوگوں نے گھیرا کافی تنگ کر دیا تھا چونکہ میری رشتہ داری ہے اس لئے میں نے ابھی تک کوئی اور راستہ نہیں چنا۔ آخری بار میں ان کے پاس جنوری 2026 میں اسلام آباد گیا تو ان لوگوں نے بیچ میں ایک ثالث بٹھایا، ثالث نے ساری بات سنی اور انہوں نے کہا کہ اپ لوگوں کی ڈیل سود کے بنیاد پر ہوئی ہے، جس پر میں نے کہا کہ جب میں ان کے ساتھ انویسٹمنٹ کر رہا تھا اس وقت ان سے میں نے یہ سوال پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے جواب دیا تھا کہ ہم خالصتاً کاروبار کے غرض سے آپ کے پیسے انویسٹ کر رہے ہیں اور وہاں سے ہمیں سو فیصد منافع ہونا ہے، اور ہم آپ کو منافع کے ساتھ تین مہینوں میں سارے پیسے واپس کرنے کے پابند ہونگے۔ اور انہوں نے کہا تھا کہ تسلی رکھے ہم سود کا کام نہیں کرتے، میں نے شروع میں عرض کی تھی کہ ایک تو میرا قریبی رشتہ اور دوسرا ان کا دینی حلیہ جس پر میں نے آنکھیں بند کر کے اعتبار کیا تھا۔ یہاں ایک بات آپ نوٹ کریں کہ انہوں نے پیسے زمین میں لگا تو لئے تھے لیکن کام ابھی تک نہیں ہوا، اس کے باوجود انہوں نے کافی لوگوں کو پیسے واپس کئے۔ ثالث نے ان سے میرے پیسوں کے حوالے سے جب تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ میرے 34 ملین میں سے موصوف نے صرف 20 ملین زمین میں لگائے تھے اور باقی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لےلی تھی، اس بات کا مجھے اس سے پہلے علم نہیں تھا، 34 ملین میں سے ان لوگوں نے میرے ماموں کو جنوری 2026 میں 9 ملین اور مجھے 2 ملین واپس کر دیئے تھے اور باقی 23 ملین کے لئے انہوں نے مجھ سے اپریل 2026 کا وعدہ کیا، اب وقت آنے پر ایک بار پھر وعدہ خلافی کر رہے ہیں۔
آپ میری شریعت کی رو سے اصلاح فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے، ماموں سے میں نے 29 ملین تین مہینے کی بنیاد پر لئے تھے اور آج ڈھائی سال گزر گئے اور ان کو صرف 9 ملین واپس کئے، ان لوگوں کے جھوٹ کی وجہ سے مجھے اور میرے ماموں کو کافی بڑا نقصان بھی ہوا اور ہمیں اس عرصے میں شدید ذہنی اذیت بھی پہنچی۔ ہم ڈھائی سال کے بعد بھی صرف اپنے اصل پیسوں کا تقاضا کر رہے ہیں جو کہ اب ویلیو کے اعتبار سے آدھے رہ گئے ہیں، اب بھی ٹال مٹول کر رہے ہیں، جبکہ ثبوت موجود ہیں کہ گزشتہ چار مہینوں میں بھی اس گروپ نے لوگوں کو کافی بڑی اماونٹ واپس کی ہے۔ براہ کرم اصلاح فرمائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جزاک اللّہ، والسلام
جواب: پوچھی گئی صورت میں اوّلًا مذکورہ معاملے کے حل کے لیے رجوع إلی اللہ کا کثرت کے ساتھ اہتمام کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ درمیان میں معتبر لوگوں کو بٹھا کر حکمت و بصیرت کے ساتھ معاملے کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
اس کے باوجود اگر مذکورہ شخص ٹال مٹول سے کام لے رہا ہو تو اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق آپ کو حاصل ہے، جس کو استعمال کرکے مذکورہ معاملے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*القرآن الکریم: (الطلاق، الآیات: 2-3)*
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا.
*القرآن الکریم: (الحجرات، الآیۃ: 10)*
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی