سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں ایک اسٹاک ٹریڈر ہوں، ایک یوٹیوبر ایسا ہے جو فاریکس ٹریڈنگ کے مقابلے (competitions) کرواتا ہے اور جیتنے والے کو انعام دیتا ہے۔، یہ مقابلے ڈیمو اکاؤنٹ پر ہوتے ہیں، یعنی اس میں حقیقی (ریئل) فاریکس ٹریڈنگ نہیں کی جاتی بلکہ فرضی پیسوں سے مشق کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے ڈیمو مقابلے میں جیتنے پر ملنے والا انعام لینا جائز ہے؟
میں نے بیرونِ ملک کی کچھ ویب سائٹس پر اس بارے میں مختلف آراء دیکھی ہیں: کچھ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ محض ڈیمو (فرضی) ٹریڈنگ ہے اور اصل پیسے کا لین دین نہیں ہوتا، اس لیے یہ جائز ہے۔ جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ اس سے انسان کو ایسی چیز کی تربیت ملتی ہے جو ناجائز ہے۔ میری اپنی رائے میں یہ دوسرا نقطہ نظر درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اسی مہارت اور علم کو میں حقیقی زندگی میں حلال اسٹاکس کی ٹریڈنگ میں بھی استعمال کر سکتا ہوں۔
براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ:
کیا یہ انعام میرے لیے جائز ہوگا؟ اور اگر جائز ہوگا تو کن شرائط اور صورتوں میں یہ جائز ہوگا اور کن صورتوں میں ناجائز؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ مقابلوں (Competitions) میں حصہ لینا صرف فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) سیکھنے یا اس میں مہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے تو چونکہ فاریکس ٹرینڈنگ کا مروّجہ طریقہ کار غرر، سٹہ بازی اور دیگر شرعی خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اس لئے اس مقصد کیلئے ایسے مقابلوں (Competitions) میں حصہ لینا بھی شرعاً درست نہیں ہوگا، نیز اس پر ملنے والے انعام سے بھی اجتناب کیا جائے، لیکن اگر ان مقابلوں میں شمولیت حلال اسٹاکس ٹریڈنگ (Shariah-Compliant Stock Trading) سیکھنے یا اس میں مہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے، اور اسی مقصد کے پیشِ نظر ان میں شمولیت اختیار کی جائے تو اس صورت میں ان مقابلوں میں حصہ لینے اور ان پر ملنے والے انعام لینے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ انعام کے حصول کے لیے انٹری فیس وغیرہ کے نام سے کوئی رقم لینے کی شرط نہ لگائی جا رہی ہو، اور نہ ہی کسی اور خلافِ شرع کام کا ارتکاب کیا جاتا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (29/19، ط: المکتبة الحبیبیة)
ولا بأس بأن یؤاجر المسلم دارًا من الذمي لیسکنھا، فإن شرب فیھا الخمر أو عَبَدَ فیھا الصلیب أو أدخل فیھا الخنازیر، لم یلحق المسلم إثم في شيء من ذٰلک؛ لأنه لم یؤاجرھا لذٰلک، والمعصیة في فعل المستاجر، وفعله دون قصد رب الدار، فلا إثم علی رب الدار في ذٰلک
تکملة فتح الملھم: (608/3، ط: المکتبة الأشرفیة)
والظاھر أن ھذہ الکراھة إنما تثبت إذا تعاطاہ الرجل لغرض غیر مشروع، وأما إذا تعاطاہ لغرض مشروع، کالدواء والضماد وغیرہ فیما یجوز استعماله فیه، فالظاھر انتفاء الکراھة حینئذ
فقه البيوع: (185/1، ط: مكتبة معارف القرآن)
ثم السبب إن كان سبباً محركاً وداعياً إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام، كالإعانة على المعصية بنص القرآن، كقوله تعالى: ﴿ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ﴾ [الأنعام: ۱۰۹]، وقوله تعالى: ﴿ فَلَا تَخْضَعْنَ بالقول ) [الأحزاب: ۳۲]، وقوله تعالى: ﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ ) الآية [الأحزاب: ٣٣).
وإن لم يكن محركاً و داعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذه كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والمؤجر، من دون تصريح به باللسان، فإنّه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرح كان داخلاً في الإعانة المحرمة، وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يُفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها».
وإنما أطلت في نقل هذا الكلام لكونه في غاية الوجاهة، وبه تنطبق عبارات الحنفية التي ربما تبدو مضطربة في هذا الموضوع. ويتلخص منه: أن الإنسان إذا قصد الإعانة على المعصية بإحدى الوجوه الثلاثة المذكورة، فإن العقد حرام لا ينعقد، والبائع أثم، أما إذا لم يقصد ذلك، وكان البيع سبباً للمعصية، فلا يبطل العقد، ولكن إذا كان سبباً محركاً، فالبيع حرام، وإن لم يكن محركاً، وكان سبباً قريباً بحيث يستخدم في المعصية في حالتها الراهنة، ولا يحتاج إلى صنعة جديدة من الفاعل كره تحريماً، وإلا فتنزيهاً.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی