resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: انعامی اسکیم والی چیزیں خریدنے کا حکم

(54357-No)

سوال:
مفتی صاحب! ایک تجارتی عمل کے تحت پرفیوم بیچا جا رہا ہے اور ساتھ میں انعامی اسکیم رکھی گئی ہے، اگر بیچنے والے کے اپنے صریح اقرار سے یہ بات ثابت ہو کہ "لوگ پرفیوم خریدنے نہیں آتے بلکہ صرف انعام حاصل کرنے کے لیے پیسے دیتے ہیں اور پرفیوم کا نام صرف ایک ظاہری بہانہ و آڑ ہے" تو ایسی صورت میں اس معاملے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں انعامی اسکیم کے جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
(1) مذکورہ صورت میں پرفیوم کی قیمت اتنی ہی مقرر کی جائے جو مارکیٹ میں ایسے پرفیوم کی رائج ہو، یعنی دکان دار نے اس پرفیوم کی عام قیمت میں انعام کی بنا پر اضافہ نہ کیا ہو، اگر دکان دار انعامی اسکیم کی بنا پر مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت رکھے گا تو گویا خریدار انعام کی امید اور لالچ میں اس دکان سے سامان مہنگے داموں خرید رہا ہے، جبکہ انعام کا ملنا یقینی نہیں بلکہ موہوم ہے، اس طرح یہ معاملہ جوئے (قمار) سے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
(2) دکان دار اس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی انعام کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے کی طرف راغب نہ کرے، ورنہ اس میں بھی "قمار" کی مشابہت آجائے گی۔
(3) دکان سے مذکورہ پرفیوم خریدنے والے گاہک کا مقصود اس خریداری سے واقعی پرفیوم کا حصول ہو، موہوم انعام کا حصول مقصود نہ ہو، بلکہ انعام ایک ضمنی چیز ہو، لیکن اگر گاہک کو پرفیوم کی کوئی ضرورت نہ ہو اور وہ یہ خریداری فقط موہوم انعام حاصل کرنے کے لالچ میں کرے تو پھر یہ معاملہ "قمار" کی مشابہت اختیار کر لے گا اور ناجائز ہوگا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو دکان دار کا گاہک کو انعام دینا دکان کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (كتاب الحظر والإباحة‌‌، فصل في البيع: 403/6، ط: سعید)
‌لأن ‌القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔

بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة: (238/2، ط: مکتبه دار العلوم کراتشی)
ان النوع الاول من ھذہ الجوائز ماتمنح علی اساس القرعة ونحوھا لمشتری بضاعة مخصوصة او منتج مخصوص۔ فان کثیرا من التجار یعلنون جوائز یوزعونھا علی جملة منتخبة من المشترین الذین یشترون بضاعتھم، ویقع انتخاب المجازین اما عن طریق القرعة او علی اساس ارقام الکوبونات التی توضع مع البضاعة۔ فمن اشتری بضاعة حصل علی کوبون، فلو وافق رقم کوبونہ الرقم المنتخب للجائزة، استحق ان یحوز الجائزة المخصصة لذلک الرقم، وان حکم مثل ھذہ الجوائز انھا تجوز بشروط :
الشرط الاول : ان یقع شراء البضاعة بثمن مثلہ، ولایزاد فی ثمن البضاعة من اجل احتمال الحصول علی الجوائز۔ وھذا لانہ ان زاد البائع علی ثمن المثل، فالمقدار الزائد انما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائزة المحتملة، فصارت الجائزة بمقابل مالی فلم یبق تبرعا، وان ھذا المقابل المالی انما وقع بہ المخاطرة فصارت العملیة قمارا۔
اما اذا بیعت البضاعة بثمن مثلھا، فان المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذلہ ولم یخاطر بشیئ فالجائزة التی یحصل علیھا جائزة بدون مقابل فیدخل فی التبرعات المشروعة۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial