resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایف ٹی ایم او (FTMO) پروپرائٹری ٹریڈنگ فرم (Proprietary Trading Firm) کے ذریعے پیسے کمانا

(63653-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں FTMO نامی ایک پروپریئٹری ٹریڈنگ فرم (Proprietary Trading Firm) کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
میری سمجھ کے مطابق اس میں کسی شخص کو پہلے ایک Evaluation مکمل کرنے کے لیے فیس ادا کرنا ہوتی ہے، اگر وہ اس مرحلے میں کامیاب ہوجائے تو اسے ایک Funded Trading Account فراہم کیا جاتا ہے، اس اکاؤنٹ میں سرمایہ کمپنی کا ہوتا ہے اور ٹریڈر کو اپنے حاصل کردہ منافع کا ایک متعین حصہ دیا جاتا ہے، جبکہ طے شدہ شرائط کے اندر ٹریڈنگ کے سرمائے کا خطرہ کمپنی برداشت کرتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں ٹریڈر کو ایک Simulated Funded Trading Account فراہم کیا جاتا ہے اور عموماً پہلی ادائیگی (Payout) کے وقت Evaluation Fee بھی واپس کردی جاتی ہے۔
میرا خاص سوال ان کے Swap-Free (Islamic) اکاؤنٹ کے بارے میں ہے، جس میں رات بھر پوزیشن رکھنے پر سود (Swap) وصول نہیں کیا جاتا اور ٹریڈنگ Contracts for Difference (CFDs) کے ذریعے کی جاتی ہے۔
میں سخت رسک مینجمنٹ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، مثلاً: ہر ٹریڈ میں تقریباً 1 فیصد سرمایہ خطرے میں ڈالوں گا اور محض اندازے یا جوا کھیلنے کے بجائے ایک باقاعدہ اور متعین حکمتِ عملی کے مطابق ٹریڈنگ کروں گا۔
جن مالیاتی آلات میں ٹریڈنگ کا ارادہ ہے، ان میں Forex، Gold (XAU/USD) اور Stock Indices شامل ہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
1) کیا FTMO کے Swap-Free Funded Accountمیں حصہ لینا شرعاً جائز ہے؟
2)کیا Evaluation کے لیے فیس ادا کرنا اس کے شرعی حکم کو متاثر کرتا ہے؟
3) اگر پروپریئٹری ٹریڈنگ فرم کے ذریعے CFDs میں ٹریڈنگ کی جائے اور اکاؤنٹ Swap-Free ہو تو کیا ایسی ٹریڈنگ شرعاً جائز ہوگی؟
4) درج ذیل میں سے کن مارکیٹس میں ٹریڈنگ شرعاً جائز ہوسکتی ہے؟ فاریکس کرنسی پیئرز، سونا اور چاندی، اسٹاک انڈیکسز، خصوصاً US30 / Dow Jones اور US100 / Nasdaq، انفرادی کمپنیوں کے شیئرز، کموڈیٹیز (Commodities)، کرپٹو کرنسیز
5) کیا کچھ مخصوص شرائط یا احتیاطیں ہیں جن کی پابندی کرکے میری ٹریڈنگ شرعی طور پر جائز رہ سکتی ہے؟
6) اگر بعض مالیاتی آلات جائز اور بعض ناجائز ہوں تو براہِ کرم ان کے درمیان شرعی فرق اور حکم کی وجوہات بھی واضح فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: 1-6) پوچھی گئی صورت میں ایف ٹی ایم او (FTMO) پروپرائٹری ٹریڈنگ فرم (Proprietary Trading Firm) کے تحت بظاہر حقیقی اثاثہ جات (Assets) کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، نہ ہی وہ مقصود ہے، بلکہ محض فیوچرز (Futures)، انڈیکس کنٹریکٹس یا ایسے فرضی معاہدات/ معاملات کے ذریعے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے فرق سے نفع و نقصان حاصل کیا جاتا ہے، اس طرح کا معاملہ کرنا متعدد شرعی مفاسد، مثلاً: غرر (Uncertianity)، قمار (Gambling)، ملکیت (Ownership) اور قبضہ (Possession) کے بغیر فرضی اشیاء کی خرید و فروخت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا ایسی ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی جائز نہیں ہوگی۔
تاہم اگر اس نظام کے تحت حقیقی اثاثہ جات (Assets) کی واقعی خرید و فروخت ہو رہی ہو اور اس میں حلال اشیاء کی ملکیت کی منتقلی اور قبضہ (possession) کی شرائط پوری ہوں تو اس کاروبار کی نوعیت، شرائط و ضوابط پر شرعی حکم موقوف ہوگا، ان تمام چیزوں کی تفصیلات جانے بغیر کوئی شرعی حکم نہیں بتایا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*القران الکریم: (المائدۃ، الایة: 90)*
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَo

*سنن الترمذی: (کراہیۃ بیع ما لیس عندك، رقم الحدیث: 1232)*
عن حکیم بن حزام قال : أتیت رسول الله صلی الله علیه وسلم فقلت : یأتیني الرجل یسألني من البیع ما لیس عندي أبتاع له من السوق ثم أبیعه ؟ قال: ’’لا تبع ما لیس عندك ."

*عمدۃ القاری: (435/8)*
الغرر هو فی الاصل الخطر، و الخطر ھو الذی لا یدری أ یکون ام لا، و قال ان عرفة: الغرر ھو ما کان ظاھرہ یغر و باطنه مجهول، قال و الغرور ما راأیت لہ ظاہرا تحبہ و باطنہ مکروہ أو مجہول، و قال الأزہری: البیع الغرر ما یکون علی غیر عهدۃ و لا ثقة، و قال صاحب المشارق: بیع الغرر بیع المخاطرۃ، و ھو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله۔

*مصنف ابن ابی شیبة: (کتاب البیوع و الاقضیة، 483/4، ط: مکتبة الرشد)*
عن ابن سیرین قال: کل شيءٍ فیه قمار فهو من المیسر

*الھندیة: (الفصل الثالث فی معرفة المبیع والثمن والتصرف، 13/3، ط: دار الفکر)*
فنقول من حکم المبیع اذا کان منقولا ان لایجوز بیعه قبل القبض....واما اذا تصرف فیه مع بائعه فان باعه منه لم یجز بیعه اصلا قبل القبض۔

*رد المحتار: (کتاب الحظر و الاباحۃ، 403/6، ط: سعید)*
(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial