سوال:
مفتی صاحب! ایک مسئلہ کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے، گزارش یہ ہے کہ میں ایک پارٹی کے ساتھ شہد کا کام کرتا تھا، میری انویسٹمنٹ نہیں تھی، پارٹی سے مال لے آگے فروخت کرتا تھا اور مال کی رقم پارٹی کو بھیج دیتا تھا۔
جب میری شادی ہوئی تو میری اہلیہ نے شادی کے فوراً بعد مجھے اپنے حق مہر کے پیسے دیے اور کہا کہ تم اس سے شہد کا کاروبار کرو، نفع آدھا آدھا ہوگا۔ شروع میں وہ رقم 15000 روپے تھی، پھر اس میں میری اہلیہ نے مزید رقم شامل کی تو کل رقم 40000 روپے تک پہنچ گئی۔ کام چلتا رہا جو منافع ہوتا گیا اسے دوبارہ کاروبار میں لگاتے گئے، نفع کی کبھی تقسیم نہیں ہوئی، جو کاروباری اخرجات آتے وہ بھی اسی کاروبار کی رقم سے کیا کرتے تھے۔
اگر کبھی گھر کے کسی خرچ کی نوبت آتی تو اہلیہ کی رضامندی سے وہ اخراجات مشترکہ طور پر ہوا کرتے تھے، جیسے کبھی اسپتال کا دوا کا خرچ یا دیگر گھر کی ضرورت کا کچھ سامان باہمی رضامندی کے ساتھ خریدا، لیکن کبھی منافع کا حساب نہ کیا اور نہ ہی کبھی اسے تقسیم کا سوچا بلکہ وہ میری اہلیہ تھی اس لیے ان پر زیادہ خرچ کر دیا کرتا تھا اکثر اسپتال وغیرہ کے معاملات میں اس طرح کاروبار چلتا گیا۔
یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ گھر کے ماہانہ اخراجات: راشن، کرایہ گیس بجلی وغیرہ کے بلز اور روز مرہ کی اشیاء خورد و نوش میں اپنی ملازمت کی تنخواہ میں سے پورا کرتا رہا، شہد کا کام پارٹ ٹائم کرتا تھا۔ تقریباً یہ کاروبار 11-10-2026 تک چلتا رہا۔ گزشتہ اتوار کو اچانک میری اہلیہ کا مختصر علالت کے بعد رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ اتنے عرصہ تک اگرچہ نفع کا فیصد متعین تھا، لیکن کبھی تقسیم نہیں کیا گیا، بوقت ضرورت اپنے لیے کچھ رقم لیتا رہا، لیکن وہ نفع کی رقم سے کم ہی ہوتے تھے، تاہم ان کا حساب محفوظ نہیں رکھا گیا، اب میرا اس کاروبار میں میرا منافع کس طرح نکلے گا؟ تاکہ اسے الگ کر سکوں اور وہ مال وراثت میں شامل نہ ہو۔
دوسری بات یہ دریافت کرنی ہے کہ اب اس کاروبار کی وراثت کس طرح تقسیم ہو گی؟ کاروبار کی موجودہ مالیت 140000 ہے، اس میں سے میرا نفع الگ ہونے کے بعد وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ ورثاء میں ایک شوہر میری مرحومہ بیوی کے والدین اور اور بھائی ہیں، ہماری ایک بچی ہوئی تھی، جو ولادت کے فورا بعد فوت ہو گئی تھی۔ برائے کرم مذکورہ صورت حال کا شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ دونوں کے درمیان ہونے والا مذکورہ معاملہ دراصل "مضاربت" (جس میں ایک فریق کی طرف سے سرمایہ اور دوسرے کی طرف سے محنت ہوتی ہے) کی صورت بن رہی ہے، اور مضاربت میں کسی ایک فریق کی وفات کی صورت میں یہ معاملہ ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا بیوی کی وفات کے بعد پہلے تو کاروبار کی کل مالیت سے اصل سرمایہ چالیس ہزار روپے الگ کر دیے جائیں، جو بیوی کی میراث شمار ہوگی، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، وہ کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع شمار ہوگا، جس میں آدھا حصہ آپ کا اور آدھا حصہ بیوی کا ہوگا۔
لیکن جو رقم آپ نے اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کی ہے، اس کا غالب گمان کے مطابق ایک اندازہ لگا کر وہ آپ کے حصے سے کاٹ لی جائے گی، البتہ جو خرچہ آپ دونوں نے باہمی رضامندی سے گھر کی ضروریات میں خرچ کیا ہے، وہ ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور تبرع شمار ہوگا، اس کے حساب و کتاب کی ضرورت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ مرحومہ کی کل میراث، یعنی مذکورہ کاروبار میں اس کی طرف سے لگایا گیا اصل سرمایہ اور اس کے حصے میں آنے والا نفع سمیت اس کی دیگر میراث سے تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی، اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی ماندہ میراث کو چھ (6) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے شوہر کو تین (3) حصے، والد کو دو (2) حصے اور والدہ کو ایک (1) حصہ ملے گا، جبکہ مرحومہ کے بھائی میراث سے محروم رہیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے شوہر کو 50 فیصد حصہ، والد کو 33.33 فیصد حصہ اور والدہ کو 16.67 حصہ ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*القرآن الكريم: (النساء، الآية: 12)*
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌۚ
*السراجي في الميراث: (ص: 28، ط: مكتبة البشرى)*
وأما للأم فأحوال ثلاث: السدس مع الولد أو ولد الابن وإن سفل، أو مع الاثنين.من الإخوة والأخوات فصاعدا من أي جهة كانا، وثلث الكل عند عدم هؤلاء المذكورين، وثلث ما بقي بعد فرض أحد الزوجين، وذلك في مسألتين: زوج وأبوين وزوجة وأبوين.
*الفتاوى الهندية: (285/4، ط: دار الفكر)*
أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر حتى لو شرط الربح كله لرب المال كان بضاعة ولو شرط كله للمضارب كان قرضا هكذا في الكافي.
*فیه أيضاً: (313/4)*
لو أعانه رب المال بغلمانه أو دوابه في السفر لا تفسد المضاربة ونفقة غلمانه ودوابه عليه دون مال المضاربة فإن أنفق المضارب عليهم بغير إذن رب المال ضمن من ماله كذا في محيط السرخسي. وإذا صار ضامنا فإن ربح في المال ربحا بدئ برأس المال يأخذ رب المال كله وما بقي من الربح يقسم على ما اشترطوا فما أصاب المضارب من الربح فإنه يحتسب نصيبه من الربح بما عليه فإن كان نصيبه من الربح أقل مما ضمن رد الزيادة وإن كان نصيبه من الربح أكثر أخذ الزيادة إلى تمام نصيبه من الربح وإن كان رب المال أمره بالنفقة على رقيقه ودوابه حسب ذلك من مال رب المال كذا في المحيط. وإن كان أسرف فيما أنفق على الرقيق فإنما يضم إلى رأس ماله من ذلك نفقة مثله كذا في محيط السرخسي والمبسوط. وسبيل النفقة أن يحتسب من الربح إن كان وإن لم يكن فهي من رأس المال لأن النفقة جزء هالك والأصل في الهلاك أن ينصرف أولا إلى الربح كذا في المحيط.
*مختصر القدوري: (ص: 236، ط: البشرى)*
واذا مات رب المال او المضارب بطلت المضاربة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی