resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مضاربت میں سرمایہ کی ضمانت لینے والے شخص کی ذمہ داری کا حکم

(64688-No)

سوال: تقریبا ساڑھے چار سال پہلے زید نے مجھے مشورہ دیا کہ ابوبکر کا کام بہت اچھا چل رہا ہے اور میں کئی سالوں سے ابوبکر اور اس کے گھر والوں کو جانتا ہوں، پرانے تعلقات ہیں اور ابو بکر کو بہت با اعتماد انسان ظاہر کیا۔ زید نے کہا کہ آپ اپنا سرمایہ ابوبکر کے پاس لگائیں یہ آپ کو اچھا منافع دے گا، میں نے اپنا ڈر اور خوف ظاہر کیا کہ یہ میری کُل جمع پونجی ہے، زندگی بھر کی حلال کمائی ہے، جس پر زید نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کے پیسے کی ذمہ داری میری ہے۔
تقریبا چار سال تک مجھے منافع ملتا رہا۔ اس کے بعد 10' 12 دن پہلے زید نے مجھے بتایا کہ ابوبکر کافی عرصے سے بھاگا ہوا ہے اور میں ابھی اسے ڈھونڈ رہا ہوں لیکن کوئی اتا پتہ نہیں، اس بات پر میں نے زید سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا کہ آپ نے ذمہ داری لی تھی، اب میری رقم دینا آپ کے ذمہ داری ہے، جس پر زید نے ہر قسم کی ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں نقصان ہوتے رہتے ہیں اور میں آپ کو رقم ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں۔ اس بارے میں مجھے بتایا جائے کہ اس سارے معاملے میں زید کی کیا ذمہ داری ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی زید نے آپ کو ابوبکر پر اعتماد دلانے کے لیے یہ کہا تھا کہ "آپ کے پیسوں کی ذمہ داری میری ہے" اور آپ نے زید کی اس ذمہ داری پر اعتماد کرتے ہوئے ابوبکر کو رقم دی تھی، لہذا اس صورت میں اگر یہ سرمایہ ابوبکر کی غفلت، کوتاہی، تعدی یا خیانت کی وجہ سے ضائع ہوجائے تو زید اس رقم کا ضامن ہوگا۔ البتہ اگر محض کاروباری نقصان ہو اور ابوبکر کی طرف سے کوئی غفلت، کوتاہی یا تعدی نہ پائی جائے تو اس نقصان کا ضمان زید پر لازم نہیں ہوگا۔
سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق ابوبکر کا بغیر اطلاع دیے غائب ہوجانا اور کاروبار کے نفع و نقصان کا کوئی حساب نہ دینا خیانت کے حکم میں ہے، لہٰذا ایسی صورت میں زید پر آپ کے سرمایہ کی ادائیگی لازم ہوگی، البتہ اگر ابوبکر واپس آجائے تو زید کے ادا کردہ ضمان کی رقم کے حکم میں مزید تفصیل ہوگی، جس کے بارے میں بعد میں الگ سوال کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*كنز الدقائق (ص ٤٥٠ ،ط: دار البشائر الإسلامية، دار السراج):*
وبالمال ولو مجهولا إذا كان دينا صحيحا كفلت عنه بألف وبما لك عليه وبما يدركك في هذا البيع وما بايعت فعلي وما ذاب لك عليه فعلي وما غصبك فلان فعلي

*تبيين الحقائق (4/ 153، ط: دار الكتاب الإسلامي):*
قال رحمه الله (ويصح تعليق الكفالة بشرط ملائم كشرط وجوب الحق كأن استحق المبيع، أو لإمكان الاستيفاء كأن قدم زيد، وهو مكفول عنه، أو لتعذره كأن غاب عن المصر) أي يجوز تعليق الكفالة بشروط ملائمة لا بمطلق الشرط، والملاءمة تثبت بكون الشرط سببا لوجوبه كقوله إن استحق المبيع فعلي الثمن، أو بكونه ممكنا من الاستيفاء كقوله إن قدم فلان فعلي ما عليه من الدين، أو بكونه سببا لتعذر الاستيفاء منه كقوله إن غاب زيد فعلي ما عليه من الدين، فهذه جملة الشروط التي يجوز تعليق الكفالة بها، والأصل فيه قوله تعالى {ولمن جاء به حمل بعير وأنا به زعيم} [يوسف: 72] فوجه التمسك بالآية أنه علق الكفالة بالشرط وذلك الشرط سبب لوجوب الحمل على المجيء بالصاع وشريعة من قبلنا شريعة لنا ما لم تنسخ.

*المعايير الشرعية (ص 284، المعيار الشرعي رقم 13: المضاربة، بند 6):*
يجوز لرب المال أخذ الضمانات الكافية والمناسبة من المضارب، بشرط أن لا ينفذ رب المال هذه الضمانات إلا إذا ثبت التعدي أو التقصير أو مخالفة شروط عقد المضاربة.

*المعايير الشرعية (ص 130، المعيار الشرعي رقم 5: الضمانات، بند 2/2/1):*
لا يجوز اشتراط الكفالة أو الرهن في عقود الأمانة، مثل عقد الوكالة أو الإيداع، لمنافاتها لمقتضاها، ما لم يكن اشتراطهما مقتصرا على حالة التعدي، أو التقصير، أو المخالفة للشروط أو القيود، وبخاصة عقود المشاركات والمضاربة حيث لا يجوز اشتراط الضمان على المضارب أو وكيل الاستثمار أو أحد الشركاء، سواء كان الضمان للأصل أم للربح، ولا يجوز تسويق عملياتها على أنها استثمار مضمون

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial