سوال:
السلام علیکم! امید کرتا ہوں کہ آپ حضرات خیریت سے ہوں گے۔ اللہ پاک آپ کی اس بے لوث خدمت کو قبول فرمائیں اور ہمیشہ قائم رکھیں۔
حضرت! سوال یہ کرنا ہے کہ اگر کوئی شخص اتوار بازار وغیرہ سے کوئی چیز سستے داموں سیکنڈ ہینڈ خرید لے، اور وہ چیز چوری کی ہو، تو ایسی چیز خریدنے کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ چوری کے مال کا اصل مالک کے علاوہ کوئی دوسرا شخص مالک نہیں بن سکتا، اگرچہ چوری کرنے والا اسے دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کردے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر معمولی شک ہے تو خرید نے کی گنجائش ہے، لیکن تب بھی ایسے مال کے خریدنے سے اجتناب بہتر ہے۔ البتہ اگر یقین کی حد تک معلوم ہو یا قرائن سے غالب گمان ہو کہ یہ مال چوری کا ہے تو شرعاً ایسا مال خریدنا جائز نہیں، اگر کسی نے خرید لیا تو چوری شدہ چیز فروخت کرنے والے کو واپس کر کے اپنی رقم واپس لے لی جائے، لیکن اگر فروخت کرنے والے سے رابطہ نہ ہوسکے اور مالک کا بھی علم نہ ہو تو یہ چوری شدہ چیز یا اس کی قیمت مالک کی طرف سے صدقہ کی جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*السنن الکبری: (5548، باب كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا، ط: دار الکتب العلمیة)*
عن شرحبيل مولى الأنصار , عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من اشترى سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها".
*مسند اسحاق بن راھویہ: (1/385،باب :ما يروى عن عطاء بن أبي مسلم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ط. مکتبة الایمان)*
عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد شرك في عارها وإثمها.
*رد المحتار: (99/5، ط: سعید)*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
*حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار ( 4/192، کتاب الحظر والاباحة، فصل فی البیع، ط.دار المعرفة)*
ان علم ان العين التي يغلب علي الظن انهم اخذوها من الغير بالظلم قائمة و باعوها في الاسواق فانه لاينبغي شرائها منهم وان تداولته الايدي.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی