resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: فرضی خرید و فروخت کا معاملہ کرکے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نفع و نقصان برابر کرنا

(65738-No)

سوال: 5 ستمبر 2023 کو میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ نفع نقصان میں برابر شراکت داری پر چینی یعنی شوگر کی پانچ گاڑیوں کا 16900 روپے فی بوری کے حساب سے مستقبل یعنی سٹے کا سودا کیا، ہم دونوں دوستوں نے اس سودے کو اپنے پاس لکھ بھی لیا، اس سودے کی کوئی پیشگی رقم یا بیعانہ بھی نہیں دیا گیا تھا، اس سودے کی نوعیت یہ تھی کہ ستمبر کی 30 تاریخ تک ہماری قیمت خرید میں کمی یا اضافے کو نفع یا نقصان میں ہر صورت کاٹا جائیگایا ہم یعنی گاہک طے شدہ قیمت خرید پر مال کی ڈلیوری کا تقاضا بھی کر سکتا ہے؟ لیکن 25 ستمبر کو وہ بروکر جس کے ساتھ ہمارا سودا تھا وہ حکومتی ایجنسیوں کے خوف سے اپنے دفتر کو تالا لگا کر روپوش ہو گیا، اس کے 6 مہینے بعد مارچ 2024 کو وہ بروکر منظرعام پر آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کی قیمت خرید سے اب موجودہ ریٹ بہت کم ہوگیا ہے، لہذا اس کو نقصان ادا کیا جائے۔ ہم نے اسے دلیل دی کہ ہم تو 30 ستمبر تک پابند رہے لیکن آپ ہی بنا بتائے غائب ہو گئے، اب ہم یہ نقصان ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال میرے دوست نے اس کو آفر دی کہ ہم آپ کو کل چھ لاکھ روپے 12 مہینے کی اقساط میں ادا کر دیتے ہیں، لیکن وہ بروکر نہیں مانا، اب پھر دو سال بعد وہ دوبارہ ہم سے رابطہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے چھ لاکھ روپے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ادا کریں۔
اس پر میرا موقف تھا کہ ہم نے آپ کو دو سال پہلے آفر دی تھی، لیکن آپ نے قبول نہیں کی، اب ہمارے حالات ایسے نہیں کہ وہ چھ لاکھ بھی ادا کرسکیں اور چونکہ اس سودے کا کوئی ایڈوانس یا بیعانہ بھی نہیں دیا گیا تھا، اس لئے دونوں فریق پابند نہیں رہے، جبکہ میرا دوست کہتا ہے کہ ہمیں چھ لاکھ ادا کرنے چاہیئں۔ آپ سے درخواست ہے کہ ایسے سودوں کی شرعی حیثیت اور ان سودوں کے نفع نقصان کے حلال یا حرام ہونے کے بارے اسلامی نقطہ نظر بتا کر رہنمائی فرما دیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں بظاہر کسی چیز کی حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوئی، نہ ہی وہ مقصود تھی، بلکہ اس معاملے میں محض مستقبل (Future) میں اجناس کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے فرق کو نفع و نقصان شمار کرنا مقصود تھا۔ اس طرح کا معاملہ کرنا متعدد شرعی مفاسد، مثلاً: ملکیت (Ownership) اور قبضہ (Possession) کے بغیر فرضی اشیاء کی خرید و فروخت، "غرر" (Uncertianity) اور قمار/جوا (Gambling) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً باطل اور ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ اس طرح معاملہ کرنے سے کسی فریق پر شرعاً کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، آئندہ ایسا معاملہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*سنن الترمذی: (کراهیة بیع ما لیس عندك، رقم الحدیث: 1232)*
عن حکیم بن حزام قال : أتیت رسول الله صلی الله علیه وسلم فقلت : یأتیني الرجل یسألني من البیع ما لیس عندي أبتاع له من السوق ثم أبیعه ؟ قال: ’’لا تبع ما لیس عندك."

*عمدۃ القاری: (435/8)*
الغرر هو فی الاصل الخطر، و الخطر ھو الذی لا یدری أ يکون ام لا، و قال ان عرفة: الغرر ھو ما کان ظاھرہ یغر و باطنه مجهول، قال و الغرور ما رأیت له ظاہرا تحبه و باطنه مکروہ أو مجہول، و قال الأزہری: البیع الغرر ما یکون علی غیر عهدۃ و لا ثقة، و قال صاحب المشارق: بیع الغرر بیع المخاطرۃ، و ھو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله

*رد المحتار: (505/4، مطلب شرائط البيع أنواع أربعة)*
وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم۔

*المبسوط للسرخسی:(14/4)*
ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد

*الھندیة: (الفصل الثالث فی معرفة المبیع والثمن والتصرف، 13/3، ط: دار الفکر)*
فنقول من حکم المبیع اذا کان منقولا ان لایجوز بیعه قبل القبض....واما اذا تصرف فیه مع بائعه فان باعه منه لم یجز بیعه اصلا قبل القبض۔

*رد المحتار: (کتاب الحظر و الاباحۃ، 403/6، ط: سعید)*
(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial