سوال:
مُحترم مُفتیانِ کِرام، اَلسَّلامُ عَلَیْکُم وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُہ! آپ نے گزشتہ جواب (https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=60509) میں تیسری صورت یعنی وکالت کا طریقہ کو جائز قرار دیا، جس کے لیے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس سلسلے میں ایک عملی سوال عرض کرنا تھا: آپ نے فرمایا کہ ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھا جائے کہ "میں اس سامان کا مالک نہیں، بلکہ آپ کی طرف سے بطور وکیل سپلائر سے خریداری کرتا ہوں، سامان کی اصل قیمت اتنی ہے اور میری خدمت کا معاوضہ اتنا ہے۔"
اب سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے یہ اطلاع گاہک تک پہنچانے کی کیا کم از کم حد ہے؟ کیا یہ عبارت ہر پروڈکٹ کے صفحے پر لکھنا لازم ہے یا یہ کافی ہوگا کہ یہ وضاحت صرف ایک مخصوص جگہ جیسے آرڈر کنفرم کرنے کے صفحے (Checkout Page) یا ویب سائٹ کی شرائط و ضوابط (Terms & Conditions) کے صفحے پر درج ہو، اور گاہک کو آرڈر مکمل کرنے سے پہلے اُس پر اتفاق کرنا لازم ہو؟
مقصود یہ جاننا ہے کہ شرعی طور پر وکالت کا یہ اعلان کہاں اور کس طریقے سے ہونا ضروری ہے تاکہ معاملہ مکمل طور پر درست ہو۔ جَزَاکُمُ اللهُ خَیْرًا وَ أَحْسَنَ الجَزَاء
جواب: گاہک کے ساتھ وکالت کا معاملہ اختیار کرنے کی صورت میں ہر پروڈکٹ کے پیج پر وکالت کی تفصیل لکھنا لازم نہیں، بلکہ اگر ویب سائٹ کی شرائط و ضوابط (Terms & Conditions) یا آرڈر کنفرم کے صفحہ (Checkout Page) پر آرڈر مکمل ہونے سے پہلے گاہک کے سامنے یہ وضاحت کردی جائے تو کافی ہے، بشرطیکہ اعلان واضح اور نمایاں ہو، اور گاہک کو آرڈر مکمل کرنے سے پہلے اُس پر اتفاق کرنا لازم ہو،
نمونہ کے طور پر عبارت درج ذیل ہے:
"میں آپ کی طرف سے بطور وکیل سپلائر سے سامان خرید کر آپ کو بھجواؤں گا، سامان کی اصل قیمت اتنی ہے اور میری خدمت کا معاوضہ اتنا ہے"۔
۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*الدر المختار (6/5، ط: دار الفكر):*
وشرطها كون الاجرة والمنفعة معلومتين لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة
*العناية شرح الهداية (7/ 499 ، ط: دار الفكر):*
وفي اصطلاح الفقهاء عبارة عن إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم.
*درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 497، ط: دار الجيل):*
ركن التوكيل الإيجاب والقبول، وذلك بأن يقول الموكل وكلتك بهذا الأمر فإذا قال الوكيل: قبلت أو قال كلاما آخر يشعر بالقبول، تنعقد الوكالة، كذلك لو لم يقل شيئا وتشبث بإجراء ذلك الأمر يصح تصرفه؛ لأنه يكون قد قبل الوكالة دلالة ولكن لو ردها الوكيل بعد الإيجاب لا يبقى لها حكم.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی