سوال:
ایک معاملے میں چار فریق ہیں:
فریقِ اول: سرمایہ (انویسٹر) فراہم کرنے والا شخص ہے، جو فریقِ دوم (سائل) کو کاروباری مقصد کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا۔
فریقِ دوم (سائل): فریقِ اول کے ساتھ کاروباری معاہدہ رکھنے والا شخص ہے۔ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ فریقِ سوم (جس کمپنی میں سائل کام کرتا ہے کمیشن پر) کی کمپنی کے لیے آرڈر تلاش کرکے لائے۔ فریقِ دوم اور فریقِ سوم کے درمیان یہ طے ہے کہ فریقِ دوم آرڈر حاصل کرکے فریقِ سوم کو دے گا، جبکہ آرڈر کی تیاری، مٹیریل، پیداوار، پیکنگ اور بیرونِ ملک شپمنٹ وغیرہ کے تمام معاملات فریقِ سوم کی کمپنی خود انجام دے گی۔ اس کے عوض فریقِ دوم کو طے شدہ کمیشن دیا جائے گا۔
فریقِ سوم: وہ کمپنی ہے جو فریقِ دوم کے لائے ہوئے آرڈر کو اپنی کمپنی کے وسائل سے مکمل کرے گی اور آرڈر کی تکمیل و شپمنٹ کی ذمہ داری اسی کی ہوگی۔
فریقِ چہارم: بیرونِ ملک میں موجود ٹیم ہے جو فریقِ دوم کے لیے آرڈرز تلاش کرنے اور حاصل کرنے کا کام کرے گی۔ فریقِ چہارم کو ابتدائی طور پر نو ماہ تک ماہانہ اجرت دی جائے گی، جس کا کل خرچہ مثلا: 9 روپے ہو تو ہر ماہ ایک روپیہ مقرر کیا گیا ہے۔ نو ماہ مکمل ہونے کے بعد فریقِ چہارم کا معاملہ ماہانہ تنخواہ کے بجائے صرف کمیشن کی بنیاد پر ہوگا۔ باہر کے اسٹاف کو فریق دوم (سائل) نے ہائر کیا ہے تاکہ وہ اسے کمپنی کےلیے کسٹمر تلاش کرکے دے۔
فریقِ دوم نے فریقِ سوم (کمپنی) سے یہ طے کیا ہے کہ فریقِ چہارم اس کے لیے کام کرے گا اور اس کی ابتدائی نو ماہ کی اجرت فریقِ دوم ادا کرے گا۔ چونکہ فریقِ چہارم فریقِ دوم کے ذریعے اس کاروبار میں شامل ہوا ہے، اس لیے فریقِ دوم نے فریقِ اول سے سرمایہ لینے کا معاملہ کیا ہے۔ فریقِ اول، فریقِ دوم کو نو روپے بطور سرمایہ فراہم کرے گا، جو نو ماہ کے دوران ماہانہ ایک روپیہ کے حساب سے فریقِ چہارم کی اجرت کی ادائیگی میں استعمال ہوگا۔ فریقِ اول اور فریقِ چہارم کے درمیان براہِ راست کوئی معاہدہ یا تعلق نہیں ہوگا؛ فریقِ اول کا معاملہ صرف فریقِ دوم کے ساتھ ہوگا۔
کاروبار شروع ہونے کے بعد فریقِ چہارم آرڈر تلاش کرکے فریقِ دوم کو دے گا، اور فریقِ دوم وہ آرڈر فریقِ سوم کی کمپنی کو فراہم کرے گا۔ اس کے بعد آرڈر کو مکمل کرنا، مطلوبہ مٹیریل وغیرہ فراہم کرنا، پیداوار کرنا اور اسے خریدار تک پہنچانے کے لیے شپمنٹ کرنا فریقِ سوم کی کمپنی کی ذمہ داری ہوگی۔ فریقِ دوم کا بنیادی کردار آرڈر حاصل کرکے فریقِ سوم تک پہنچانا ہوگا۔
فریقِ اول کی جانب سے فراہم کیے گئے نو روپے کو فریقِ دوم فوری طور پر واپس کرنے کا پابند نہیں ہوگا، بلکہ کاروبار شروع ہونے کے بعد فریقِ دوم کو جو کمیشن حاصل ہوگا، اس میں سے پہلے مرحلے میں فریقِ اول کی فراہم کردہ اصل رقم واپس کی جائے گی۔ یعنی فریقِ دوم کو جتنا کمیشن ملتا رہے گا، اس میں سے فریقِ اول کے نو روپے مکمل طور پر واپس کیے جائیں گے۔ اصل سرمایہ مکمل واپس ہونے تک واپسی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جب فریقِ اول کی مکمل اصل رقم واپس کردی جائے گی، اس کے بعد اگلے مثلاً: بارہ ماہ کے لیے فریقِ اول کو کاروبار میں حاصل ہونے والے کمیشن میں سے ایک متعین (انویسٹمنٹ کا پرافٹ مگر اصل سرمایہ دینے کے بعد) فیصد بطور منافع دیا جائے گا۔ اس فیصد کی مقدار پہلے سے لازماً ایک جیسی مقرر نہیں ہوگی، بلکہ آرڈر کی نوعیت، حجم اور کاروباری حالات کے اعتبار سے طے کی جائے گی؛ مثلاً کسی معاملے میں ایک فیصد اور کسی میں اس سے زیادہ یا کم فیصد ہوسکتا ہے۔
نیز یہ بات بھی واضح کر دینا بہتر ہے کہ فریق چہارم فریق اگر فریق دوم کو کسٹمر فراہم نہ کر سکا تو تین چار ماہ بعد فریق دوم جس نے فریق چہارم کو نو ماہ کے لیے تنخواہ پر مقرر کیا ہے معاہدہ ختم کر سکتا ہے، اور اس صورت میں دی گئی تنخواہیں فریق چہارم واپس نہیں کرے گا۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارے کاروبار کی صورت درست ہے؟ اگر درست نہیں تو جہاں خلاف شرع ہے اسکا متبادل جائز طریقہ بتادیں۔ جزاک اللہ خیرا نوٹ: 9 روپے آسانی کے لیے سرمایہ فرض کیا گیا ہے ۔
جواب: سوال سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فریقِ اوّل نقصان میں شریک نہیں ہوگا، بلکہ اس کے سرمایہ کو مکمل ضمانت حاصل ہوگی، اور سرمایہ کی واپسی کے بعد مخصوص مدت تک اس کے عوض کمیشن میں ایک متعین حصہ نفع کے طور پر بھی اسے دیا جائے گا، لہٰذا اگر فریقِ اوّل اور فریقِ دوم کے درمیان معاملے کی نوعیّت یہی ہو تو یہ قرض پر نفع حاصل کرنے کی صورت بن رہی ہے، جو سود ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں۔
اس کے متبادل کے طور پر یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ فریقِ اوّل کا سرمایہ اور فریقِ دوم کی محنت ہو اور دونوں کے درمیان باقاعدہ مضاربت کا معاہدہ کیا جائے۔ اس صورت میں معاہدہ کرتے وقت ہی نفع کا باہمی تناسب، مثلاً پچاس یا باہمی رضامندی سے کوئی دوسرا تناسب طے کرلیا جائے۔
نیز مضاربت میں نقصان کی صورت میں اصل مالی نقصان سرمایہ فراہم کرنے والے (رب المال) کو برداشت کرنا ہوگا، جبکہ مضارب (فریقِ دوم) کی محنت ضائع ہوگی، بشرطیکہ نقصان اس کی تعدی یا کوتاہی کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔
اس طریقے سے فریقِ اول اور دوم کے درمیان معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق قابلِ عمل ہوسکتا ہے، البتہ فریقِ دوم کا فریقِ سوم (کمپنی) کے لیے آرڈر تلاش کرکے اس پر کمیشن لینا جائز ہے، بشرطیکہ کمیشن پہلے سے متعین ہو اور متعلقہ کام شرعاً جائز ہو، اور یہ کمیشن صرف فریق دوم کا حق نہیں ہوگا، بلکہ فریق اول کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت نفع کے طور پر (باہمی رضامندی سے طے شدہ شرح منافع کے مطابق) اسے تقسیم جائے گا۔
اسی طرح فریقِ چہارم کا فریقِ دوم کے لیے آرڈرز تلاش کرنے کا کام کرنا اور اس کے عوض نو ماہ تک ہر ماہ متعین اجرت لینا جائز ہے، نیز نو ماہ کے بعد متعین کمیشن پر کام کرنا بھی جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الھدایة: (200/3، ط: دار احیاء التراث العربی)*
قال: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها؛ ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضا۔۔۔۔ قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة۔۔۔الخ
*الدر المختار مع رد المحتار: (656/5، ط: سعید)*
"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن)
*رد المحتار: (166/5، ط: دار الفكر)*
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.
*فيه أيضاً: (63/6، ط: دار الفكر )*
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی