resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: سی ایف ڈی (Contract for Difference (CFD) ) کے ذریعے تیل کی خرید و فروخت

(63650-No)

سوال: السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے سونے اور چاندی کے علاوہ تیل، خصوصاً خام تیل (Crude Oil) اور دیگر غیر ربوی اشیاء کی آن لائن CFD (Contract for Difference) کے ذریعے خرید و فروخت کا کیا حکم ہے، اگر اکاؤنٹ اسلامی (Swap-Free) ہو، اس میں سود (Riba) نہ ہو، اور 1:100 یا 1:200 جیسا لیوریج (Leverage) بھی غیر سودی طریقہ کار کے تحت فراہم کیا جاتا ہو؟
چونکہ خام تیل ربوی اشیاء میں شامل نہیں ہے اور اس میں قبضہ و ملکیت حاصل کرنا ضروری نہیں تو کیا اسے CFD کے ذریعے ٹریڈ کرنا جائز ہوگا؟ آج کل یہ طریقہ کافی عام ہے اور بروکرز بھی اسلامی اکاؤنٹ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو فنانس کی اچھی سمجھ ہو، رسک مینجمنٹ اور ٹیکنیکل اینالیسس سے بھی واقف ہو تو کیا اس صورت میں بھی CFD کے ذریعے تیل کی ٹریڈنگ ناجائز ہوگی؟
بعض علماء کا کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غرر سے بچنے کے لیے ملکیت اور قبضے سے متعلق احکام بیان فرمائے ہیں، آن لائن تجارت میں غرر سے بچنا ممکن ہے تو کیا اس صورت میں CFD کے ذریعے تیل کی تجارت جائز ہوسکتی ہے؟جزاکم اللہ خیراً

جواب: سی ایف ڈی (Contract for Difference - CFD) ٹریڈنگ میں چونکہ فریقین کے درمیان کوئی حقیقی معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی صورت میں فرق کے لین دین کا معاملہ ہوتا ہے کہ قیمت کم یا زیادہ ہونے پر ایک فریق دوسرے کو فرق کی رقم ادا کرے گا، اس لیے یہ شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ جوے کی صورت بن رہی ہے۔
نیز پوچھی گئی صورت میں اگر ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں اپنی رقم استعمال کی جائے اور بروکر کی طرف سے قرض پر اضافی چارج (Leverage) نہ لیا جائے اور سود (Interest/Swap) کا معاملہ بھی نہ ہو، تب بھی یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ بیچی جانے والی چیز ( تیل) بیچتے وقت بیچنے والے کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری ہے، جو کہ یہاں نہیں پایا جارہا ۔
سوال میں یہ کہنا کہ خام تیل ربوی اشیاء میں سے نہیں ہے، اس لیے اس میں قبضہ ضروری نہیں، درست نہیں ہے، کیونکہ غیر ربوی اموال میں بھی بیع کے صحیح ہونے کے لیے ملکیت اور قبضہ شرط ہے، چانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه"، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله۔"(صحیح مسلم، حدیث نمبر 3843)
ترجمہ: جس شخص نے کھانے کی چیز خریدی ہو تو وہ اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر پورا قبضہ نہ کر لے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے۔
اسی طرح یہ کہنا کہ اگر کسی کو فائنانس، رسک مینجمنٹ اور ٹیکنیکل اینالیسس پر عبور حاصل ہو تو غرر ختم ہو جاتا ہے، درست نہیں۔ CFD میں غرر صرف معلومات کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ خود عقد کی بنیاد ہی غرر اور غیر یقینی پر قائم ہے، کیونکہ نفع و نقصان کا دارو مدار محض ایک فرضی قیمت کے اوپر نیچے ہونے پر ہے، جس میں کوئی حقیقی تجارت نہیں ہوتی، اس لیے مہارت حاصل کر لینے سے یہ عقد جائز نہیں ہو جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح مسلم: (کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، حدیث نمبر 3843)*
"عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله۔"

*بدائع الصنائع: (کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه، 35/7)*
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض.

*درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (258/1، ط: دار الجيل)*
‌تسليم ‌العروض يكون بإعطائها ليد المشتري أو بوضعها عنده أو بإعطاء الإذن له بالقبض بإراءتها له.

*الهندية: (كتاب البيوع، 16/3، ط: دار الفكر بيروت)*
‌والتخلية ‌في ‌بيت ‌البائع صحيحة عند محمد - رحمه الله تعالى - خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - رجل باع خلا في دن في بيته فخلى بينه وبين المشتري فختم المشتري على الدن وتركه في بيت البائع فهلك بعد ذلك فإنه يهلك من مال المشتري في قول محمد وعليه الفتوى هكذا في الصغرى.

*بدائع الصنائع: (180/5، ط: رشیدیة)*
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله. ولا يجوز إشراكه، وتوليته؛ لأن كل ذلك بيع

*بدائع الصنائع: (242/4، ط: زکریا)*
ولا یشترط القبض بالبراجم؛ لأن معنی القبض ہو التمکن والتخلّي وارتفاع الموانع عرفًا وعادةً حقیقةً

*الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 88/5، 90، ط: سعید)*
"(وإذا قبض المشتري المبيع برضا) عبر ابن الكمال بإذن (بائعه صريحا أو دلالة...في البيع الفاسد)...(ولم ينهه) البائع عنه ولم يكن فيه خيار شرط (ملكه)... (بمثله إن مثليا وإلا فبقيمته)
(قوله ملكه)أي ملكا خبيثا حراما فلا يحل أكله ولا لبسه إلخ قهستاني. وأفاده أنه يملك عينه، وهو الصحيح المختار۔"

*کذا فی فتویٰ جامعة الرشید رقم الفتوی: (80975)*

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial