resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: بہو کی طرف سے سونا ہبہ کرنے کے بعد سسر کا بہو کو دکان کا کرایہ دینے کا حکم

(64729-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، آپ سے ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔
زید نے اپنی بہو سے 8 تولے سونا (زیورات) اپنی کسی ضرورت کے لیے لیا اور اس سے کہا کہ آپ مجھے یہ زیورات بخش دیں، اس کے بدلے میں میں آپ کو اپنی دکانوں میں سے ایک دکان کا کرایہ دیا کروں گا۔ بہو نے جواباً تین مرتبہ یہ کہا: "میں نے اپنا سونا تمہیں بخش دیا۔" اب بہو اس ایک دکان کا کرایہ وصول کرتی ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بہو کا اس طرح دکان کا کرایہ لینا شرعاً جائز ہے؟ نیز کیا سونا ہبہ (بخشش) شمار ہوگا یا اس کے بدلے دکان کا کرایہ لینا کسی اور شرعی معاملے کے حکم میں آئے گا؟ اور اگر مذکورہ صورت شرعاً ناجائز ہو تو براہِ کرم اس کی جائز اور شرعی متبادل صورت بھی بیان فرما دیں، تاکہ معاملہ شرعی طریقے سے درست کیا جا سکے۔ براہِ کرم اس مسئلے کی مکمل شرعی وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
سوال سے متعلق مطلوب وضاحت:
محترم! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ جب بہو نے زید کو 8 تولے سونا دیا تھا تو کیا اسی وقت زید نے یہ کہا تھا کہ ’’آپ یہ سونا مجھے دے دیں، میں اس کے بدلے آپ کو اپنی ایک دکان کا کرایہ دیا کروں گا‘‘ اور بہو نے اسی شرط پر سونا دے کر کہا تھا: ’’میں نے اپنا سونا تمہیں بخش دیا‘‘؟ یا ابتدا میں زید نے سونا بطورِ قرض لیا تھا، پھر بعد میں بہو سے کہا کہ ’’آپ یہ سونا مجھے معاف کر دیں، میں اس کے بدلے آپ کو اپنی ایک دکان کا کرایہ دیا کروں گا‘‘ اور بہو نے اس کے جواب میں سونا معاف کرتے ہوئے مذکورہ الفاظ کہے تھے؟ نیز دونوں صورتوں میں یہ بھی واضح فرمائیں کہ دکان کا کرایہ سونے کے عوض میں مقرر کیا گیا تھا یا محض سونا معاف کرنے کے بعد بطورِ الگ معاملہ کرایہ دینے کی بات کی گئی تھی؟ ان امور کی وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
سائل کی طرف سے جواب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، محترم مفتی صاحب! آپ کی تنقیح کے جواب میں عرض ہے کہ بہو نے زید (سسر) کو 8 تولے سونا بطورِ قرض نہیں دیا تھا اور نہ ہی شروع میں کوئی یہ شرط تھی کہ "سونا دو تو اس کے بدلے دکان کا کرایہ دوں گا"۔
اصل صورت اس طرح ہے کہ بہو نے از خود خوشی سے اپنا سونا سسر کو یہ کہہ کر بخش دیا تھا کہ "آپ یہ سونا لے لیں، میں نے آپ کو بخش دیا"۔ اس پر اسی مجلس میں اسی وقت سسر نے کہا تھا کہ "چونکہ آپ نے یہ سونا مجھے مفت میں بخش دیا ہے تو میں آپ کو اپنی ایک دکان کا کرایہ دیا کروں گا۔ یہ معاملہ بعد میں نہیں ہوا، بلکہ معاف کرنے کے ساتھ ہی اسی وقت ہوا تھا اور دکان کا کرایہ سونے کے عوض یا قیمت کے طور پر مقرر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ سونا معاف کر دینے کے بعد بطورِ احسان اور الگ معاملہ کے طور پر کرایہ دینے کی بات کی گئی تھی۔ براہِ کرم اس وضاحت پر شرعی حکم ارشاد فرما دیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ دونوں معاملات ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہیں کیے گئے تھے، بلکہ مذکورہ تفصیل کے مطابق باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے طور پر مستقل طور پر کیے گئے تھے تو دونوں معاملات درست شمار ہوں گے، لہٰذا بہو کو سسر کی طرف سے تبرع اور احسان کے طور پر دکان کا کرایہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ مستقبل میں اس معاملے کو ہمیشہ نزاع سے پاک رکھنے کے لیے درج ذیل شرعی احکام پیشِ نظر رہنا ضروری ہیں:
1) دکان بدستور سسر ہی کی ملکیت رہے گی۔ بہو کا اس دکان کی ذات (عین) یا اس کے منافع پر کوئی مستقل لازمی قانونی و شرعی حقِ ملکیت قائم نہیں ہوا۔
2) سسر کی طرف سے کرایہ دینا ایک تبرع (احسان/وعدہ) ہے، کوئی لازمی عقدِ اجارہ یا عقدِ معاوضہ نہیں۔ چنانچہ اگر دکان خالی ہو جائے اور کرایہ نہ آئے تو سسر پر بہو کو اپنی جیب سے رقم دینا لازم نہیں ہوگا۔
3) اگر سسر مستقبل میں کسی مجبوری، تنگی یا اپنی صوابدید پر یہ کرایہ روکنا چاہے یا دکان بیچنا چاہے تو دیانتاً اگرچہ وعدہ پورا کرنا مستحب ہے، لیکن قضاءََ و شرعاً بہو سسر پر کرایہ جاری رکھنے کا جبری دعویٰ نہیں کر سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الأدب المفرد: (ص: 208، رقم الحديث: 594، دار البشائر الاسلامية)*
حدثنا عمرو بن خالد قال: حدثنا ضمام بن إسماعيل قال: سمعت موسى بن وردان، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «تهادوا تحابوا»

*الدر المختار: (690/5، ط: دار الفكر)*
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإن شاغلا لا.

*فقہ البیوع: (505/1، ط: مکتبہ معارف القرآن)*
ومن قبيل زيادة الشرط في البيع ما يُسمى "صفقة في صفقة" وهو أن يشترط في العقد عقد آخر، مثل أن يقول البائع: "بعتك داري بكذا على أن تبيعني سيارتك بكذا" وقد اتفق العلماء على كونه ممنوعاً شرعاً، والأصل في ذلك ما روي عن عبد الله بن مسعود رضى الله تعالى عنه قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة "

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial