سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں نیل ٹیکنیشن کا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں خواتین کے لیے درج ذیل خدمات فراہم کرنا چاہتی ہوں:
جیل پالش، بلڈر جیل، پولی جیل، ایکریلک نیل ایکسٹینشن، نیل آرٹ اور مینیکیور۔
اس کے شرعی حکم کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں کہ آیا یہ کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ مصنوعات (Products) چونکہ خواتین کی زیب و زینت سے متعلق ہیں، شریعت مطہرہ نے جائز فطری آرائش اور زیبائش اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن اس کی كچھ حدود بھی مقرر کی ہیں، ان حدود میں رہتے ہوئے زیب و زینت اختیار کرنا، ان اشیاء کی خرید و فروخت کرنا اور کسی دوسری خاتون کو یہ خدمات فراہم کرنا اصولی طور پر جائز ہے، بشرطیکہ ان میں استعمال ہونے والا مواد اور اجزاء (ingredients) پاک اور حلال ہو، اور اس میں کوئی خلافِ شرع عمل مثلاً: نیل آرٹ میں کوئی غیر شرعی تصویر یا علامات وغیرہ شامل نہ بنائی جائیں، نیز خواتین کی خدمات فراہم کرتے وقت پردے اور ستر کے احکام کی رعایت کی جائے۔
واضح رہے کہ اگر ان مصنوعات کے استعمال سے ناخنوں پر ایسی تہہ بن جاتی ہو، جو وضو اور غسل میں پانی کو ناخنوں تک پہنچنے سے روکتی ہے تو وضو اور غسل سے پہلے اسے ہٹانا ضروری ہے، اس لئے گاہکوں کو اس شرعی حکم سے بھی آگاہ کرنا چاہیے, لہٰذا مذکورہ شرائط کی پابندی کے ساتھ یہ کاروبار کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز و حلال ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحيح مسلم: (باب خصال الفطرة، رقم الحدیث: 258)*
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : وُقِّتَ لَنَا فِي : قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
*الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (270/11، ط: الکویت)*
یستحب لکل من الزوجین أن یتزین للآخر۔ وقال ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما: إني لأحب أن أتزین للمرأۃ کما أحب أن تتزین لي
*الدر المختار مع الرد: (63/6، ط. سعید)*
وجاز اجارة الماشطة لتزين العروس ان ذكر العمل والمدة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی