عنوان: عدت کے دوران شوہر کی قبر پر جانا(105103-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب ! ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، وہ عورت عدت کے اندر بینک جاتی ہے، تو کیا واپس آتے ہوئے راستہ میں اپنے شوہر کی قبر پر جاسکتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ عدت کے دوران عورت صرف ضروریات(جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، مثلاً: علاج معالجہ، نان، نفقہ وغیرہ) کےلیے دن کی روشنی میں، رات کی تاریکی سے پہلے پہلے گھر سے باہر جاسکتی ہے۔
لہذا مذکورہ عورت کے لیے دوران عدت سخت ضرورت کے تحت وقتی طور پر بینک جانا تو جائز ہے، لیکن شوہر کی قبر پر جانا جائز نہیں، کیونکہ وہ ضروریات میں سے نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی تنویر الابصار مع شرحه:

ﻭﺗﻌﺘﺪاﻥ) ﺃﻱ ﻣﻌﺘﺪﺓ ﻃﻼﻕ ﻭﻣﻮﺕ (ﻓﻲ ﺑﻴﺖ ﻭﺟﺒﺖ ﻓﻴﻪ) ﻭﻻ ﻳﺨﺮﺟﺎﻥ ﻣﻨﻪ (ﺇﻻ ﺃﻥ ﺗﺨﺮﺝ ﺃﻭ ﻳﺘﻬﺪﻡ اﻟﻤﻨﺰﻝ، ﺃﻭ ﺗﺨﺎﻑ) اﻧﻬﺪاﻣﻪ، ﺃﻭ (ﺗﻠﻒ ﻣﺎﻟﻬﺎ، ﺃﻭ ﻻ ﺗﺠﺪ ﻛﺮاء اﻟﺒﻴﺖ) ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﻀﺮﻭﺭاﺕ ﻓﺘﺨﺮﺝ ﻷﻗﺮﺏ ﻣﻮﺿﻊ ﺇﻟﻴﻪ.

(ج:5 ، ص: 536، ط: دارالفکر بیروت )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 694
iddat / eddat ke / key doran shohar / husband ki qabar per jana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.