resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: داماد کو بتائے بغیر اجرت وصول کرنا

(52331-No)

سوال: سسر اپنی بیٹی کی وجہ سے اپنے داماد سے اپنے کام کی اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتا، اگر وہ مطالبہ کر سکتا ہوتا تو یقیناً اب تک کر چکا ہوتا۔ سوال بھی اسی وجہ سے پوچھا گیا ہے کیونکہ سسر اپنے پیسوں کا مطالبہ نہیں کر سکتا تو اس صورت میں داماد نے جو سسر کا سامان وغیرہ کی قیمت قرضہ دینا ہے تو کیا ایسی صورت میں سسر اپنے کیے ہوئے کام کی جائز اجرت اس قرض میں شامل کرکے یعنی سامان کی قیمت کے ساتھ ملا کر وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟ سسر ایسا اپنی بیٹی کو بتاکر لے گا اور بیوی بھی شوہر کی ہر چیز میں برابر ہوتی ہے تو کیا صرف بیٹی کو اس بارے میں آگاہ کرنا کافی نہیں ہوگا ؟

جواب: واضح رہے کہ اسلام معاملات میں وضاحت، شفافیت اور باہمی حقوق کی رعایت کا حکم دیتا ہے، چنانچہ اہلِ علم کے ہاں ایک مشہور مقولہ ہے: " آپس میں بھائیوں کی طرح رہو، لیکن لین دین اور معاملات اجنبیوں کی طرح کرو۔" یعنی محبت اور حسنِ سلوک اپنی جگہ، مگر مالی معاملات ابتدا ہی سے واضح اور طے شدہ ہونے چاہییں۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی جھگڑوں کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ابتداء میں معاملات کو واضح نہیں کیا جاتا، جو بعد میں اختلافات اور لڑائی جھگڑوں کا سبب بن جاتے ہیں۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اصل شرعی حکم تو یہ تھا کہ ابتداء ہی میں اجرت طے کر لی جاتی، تاہم اگر پہلے سے اجرت مقرر نہیں کی گئی تو اس صورت میں سسر اپنے کیے ہوئے کام کی اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا، البتہ سسر پر لازم ہے کہ وہ اپنی اجرت کا مطالبہ داماد سے مطالبہ کرے، لہٰذا سسر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ داماد کو بتائے بغیر صرف اپنی بیٹی کو بتا کر داماد کے پیسوں میں سے اپنی اجرت وصول کرے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مرقاة المفاتيح: (باب الغصب والعاریة،1974/5، ط:دارالفکر)
"و عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "«ألا لاتظلموا، ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه». رواه البيهقي في "شعب الإيمان"، و الدارقطني في "المجتبى.

(" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، و أن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه ("لايحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى ".

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial