عنوان: گناہوں میں مبتلاء شخص گناہ سے بچنے کے لیے کیا کرے؟(5349-No)

سوال: مفتی صاحب ! میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے بےحیائی کی عادت لگ گئی ہے، غلط کاموں سے لے کر انٹرنیٹ پر غلط چیزیں دیکھنے تک سب کچھ کرتا ہوں، دل سے ہمیشہ سے بہت شرمندہ ہوں، رو رو کر ہزار بار اللہ سے توبہ کرتا ہوں، پھر 3 ، 4 دن بعد دوبارہ جذبات کا غلبہ ہوتا ہے اور کوئی نا کوئی غلط کام کر جاتا ہوں۔
میں نے یہ مسئلہ کسی عالم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ پر نکاح لازم ہو گیا ہے، میری عمر 21 سال ہے، میں نے اپنے ماں باپ کو نکاح کے لئے راضی کرنے کی بہت کوشش کری، لیکن انہوں نے کہا کہ پہلے پڑھائی پوری کرو، 2 ، 3 سال جاب کرو، پھر سٹل ہوكر شادی کرنا، میں نے ان کو یہاں تک سمجھا دیا کہ مجھے گناہ میں مبتلاء ہونے کا حد سے زیادہ خطرہ ہے، لیکن وہ مان نہیں رہے ہیں۔
ایک لڑکی مجھ سے نکاح کرنے کے لئے بھی راضی ہے، میں نے سوچا چھپ کر خود سے نکاح کرلیتا ہوں، اس سے میں گناہوں سے بچ جاؤں گا اور جب میرے ماں باپ نکاح کے لئے راضی ہوجائیں گے تو سب کو بتا کر اسی لڑکی سے دوبارہ شادی کرلوں گا، لیکن میرے پاس کوئی بھی نہیں ہے، جس کو میں اپنے نکاح میں گواہ بنا سکوں۔
براہ کرم رہنمائی فرمادیں کہ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: مذکورہ حالات میں والدین کو چاہیے کہ جلد از جلد مناسب رشتہ دیکھ کر آپ کی شادی کروادیں، بصورت دیگر آپ سے کوئی گناہ سرزد ہونے کی صورت میں گناہ کا عذاب آپ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی ہوگا، اور جب تک شادی نہیں ہوجاتی، تب تک آپ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرتے رہیں:
(1) نظروں کی حفاظت کریں۔
(2) نامحرم اور اجبنی عورتوں کے ساتھ اختلاط سے بچیں۔
(3) روزے رکھیں، کیونکہ روزہ رکھنے سے شہوت مغلوب ہوتی ہے۔
(4) ایسی غذائیں استعمال نہ کریں، جس سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہو۔
(5) غلط ماحول اور خیالات سے بچنے کی حتی المقدور کوشش کریں، اپنے آپ کو مصروف رکھیں، حتی الامکان تنہائی سے احتراز کریں، اور جہاں تنہائی ناگزیر ہو، وہاں کم سے کم وقت گزارنے کی عادت اور ترتیب بنائیں۔
(6) کسی بزرگ سے بیعت کرنے یا تبلیغی جماعت میں کچھ وقت لگانے کی کوشش کریں اور اپنا اٹھنا بیٹھنا نیک لوگوں کے ساتھ رکھیں۔
امید ہے ان چیزوں پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ پاک آپ کی شیطان کے مکر و فریب سے حفاظت فرمائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشکوۃ المصابیح: (باب الولی فی النکاح، الفصل الثالث، 191/3، ط: مکتبة البشریٰ)
عن أبی سعید وابن عباس رضی الله عنھما قالا: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدبہ، فاذا بلغ فلیزوجہ، فان بلغ ولم یزوجہ فأصاب اثمًا فانما اثمہ علٰی أبیہ۔“

صحیح البخاری: (باب من لم یستطع الباءۃ، رقم الحدیث: 5066، 363/3، ط: دار الکتب العلمیة)
عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: کنا مع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم شبابًا لا نجدُ شیئًا،فقال لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یا معشر الشباب! من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج؛ فإنہ أغض للبصر وأحصن للفَرَجِ، ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم؛ فإنہ لہ وجاء۔

رد المحتار: (کتاب النکاح، مطلب کثیراً ما یتساھل فی إطلاق المستحب علی السنة، 79/3، ط: سعید)
فإن تیقن الزنا إلا بہ فرض ’’نہایۃ‘‘ أي: بأن کان لا یمکنہ الاحتراز عن الزنا إلا بہ؛ لأن ما لا یتوصل إلی ترک الحرام إلا بہ یکون فرضاً، وہٰذا إن ملک المہر والنفقۃ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 744 Oct 04, 2020
gunahon mai mubtala shakhs gunnah say bachnay kay liye kia karay?, What should a person suffering from / involved in sins do to avoid sin?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.