سوال:
فرض نمازوں کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا کیسا ہے؟ اس کا حکم کیا ہے؟ آیا احادیث میں اس کا ثبوت ہے؟
جواب: فرض نماز کے بعد دُعا کرنے کی متعدد احادیث میں تعلیم و ترغیب دی گئی ہے، ہاتھ اٹھانے کو دُعا کے آداب میں شمار کیا گیا ہے، اور اسی طرح ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً بھی ثابت ہے اور فعلاً بھی، یہ بات یقینی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اٹھاتے ہوں گے تو صحابہ کرامؓ بھی ہاتھ اٹھاتے ہوں گے، گویا ضمنی طور پر اجتماعی دعا بھی ثابت ہوگئی، ہاں ! البتہ اجتماعی دعا کو فرض بھی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ مستحب کے درجہ میں رکھنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
تحفۃ الاحوذی: (171/2، ط: دار الکتب العلمیة)
حديث الأسود العامري عن أبيه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر فما سلم انحرف ورفع يديه ودعا۔۔۔الحديث
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی